عورتیں اور مرجعیت

سوال ۷۷:۔ کس دلیل سے عورتیں مقام ِمرجعیت تک نہیں پہنچ سکتیں؟
ضروری ہے کی مرجعیت اور فقاہت میں فرق کیا جائے، عورت اس لحاظ سے کہ وہ روح مجرد رکھتی ہے اور حقیقتِ انسانی کے لحاظ سے مرد سے مختلف نہیں کیونکہ انبیاء ÷ کی بحث کا اصل محور انسان ہے نہ کہ مرد یا عورت، انسان کی انسانیت روح کے ساتھ ہے اور روح نہ مرد ہے اور نہ عورت، یہ بدن ہے جو مذکر، مونث ہوتا ہے، وہ ذمہ داریاں جو بدن کے ساتھ مربوط ہیں، اس میں مرد و عورت میں اختلاف ہے، لیکن عملی کمالات، عقائد،اخلاق، معنویت و روح کے ساتھ مربوط ہیں اور مذکر، مونث سے مربوط نہیں، پس ضروری ہے کہ فقاہت جو کہ ایک علمی مقام ہے اور مرجعیت جو کہ ایک اجرائی کام ہے میں فرق کیا جائے، فقاہت میں کوئی شرط نہیں، عورت علمی مباحث میں فقاہت کے کامل ترین مرحلہ تک پہنچ سکتی ہے اور حتیٰ اس کے شاگرد مرجع تقلید ہو سکتے ہیں لیکن مرجعیت ایک اجرائی مقام ہے، لوگ مراجعہ کرتے ہیں، مصافحہ کرتے ہیں اور یہ عورت کے مقام کے ساتھ مناسب نہیں، البتہ عورت عورتوں کی مرجع تقلید ہو سکتی ہے اور اس میں اشکال نہیں۔