عورتوں سے مشورہ

سوال ۷۶ : ۔ کیا حضرت علی ؑ کا یہ فرمان عورتوں کی عقلی کمزوری کے بارے میں نہیں کہ آپؑ نے فرمایا :’’ایاک و مشورۃ النساء فان رایھن الی افن و عزمھن الی وھن‘‘(۱) عورتوں سے مشورہ کرنے سے پرہیز کرو کہ ان کی رائے ناقص ہے اور تصمیم و ارادہ کمزور ہے اور کیاکلی طور پر یہ مسئلہ تعلیم یافتہ اور اَن پڑھ دونوں عورتوں کو شامل ہے؟
ایسی تعبیرات (ایک زمانہ میں ) موضوع کے بیرونی غلبہ کے لحاظ سے ہیں، یعنی اس زمانہ میں یہ قابلِ قدر صنف (یعنی عورتیں) صحیح تعلیم و تربیت سے محروم تھیں، درحالانکہ اگر تعلیم و تربیت کے میدان میں انہیں تحصیل کرنے کے مناسب حالات فراہم ہوں اور اگراس کے بر عکس غلبہ نہ ہو تو کم ازکم مردوں کا غلبہ نہیں ہو گا اورمذمت کی نوبت نہیں آئے گی۔
یعنی اگر عورتیں صحیح تعلیم اور محکم تربیت کے زیرِ سایہ پرورش پائیں اور مردوں کی طرح فکر کریں اور مردوں کی طرح تعقّل و تدبر رکھتی ہوں تو اس لحاظ سے عورتوں و مردوں میں فرق نہیں رہے گا اور اگر کبھی فرق دیکھا جاتا ہے تو یہ ایسے ہی ہے جیسے خود مردوں میں دیکھا جاتا ہے، مثلاً مستعد عورتیں حوزاتِ علمیہ اور یونیورسٹیوں میں پہنچیں اور مردوں کی طرح علوم حاصل کریں اور مشترک دروس میں علم حاصل کریں تو پھر نہیں کہا جا سکتا کہ وہ روایات جو عورتوں کی مذمت اور ان سے مشورہ کرنے سے پرہیز کرنے میں وارد ہوئی ہیں اور وہ دلائل جو ان کے عقول کی نارسائی کے بارے میں ہم تک پہنچے ہیں، اطلاق رکھتے ہوں اور عالم و محققعورتوں کے بارے میں کسی استثناء کو قبول نہ کرتے ہوں بلکہ قطعی طور پر ایسی عورتیں مستثنیٰ ہوں گی اور عورتیں بھی اس بارے میں مردوں سے مختلف نہیں ہوں گی۔

(حوالہ)
(۱) نہج البلاغہ خط ۳۱