عورت و مرد کی عقل

سوال ۷۵ : ۔ کبھی کہا جاتا ہے کہ مرد کی عقل عورت کی عقل سے زیادہ ہے اور ماضی، حال کے تجربات بھی اس بات کی تائید کرتے ہیں، کیا ایسا کہنا صحیح ہے؟
فرمایا ہے: وہ عقل جو مرد میں عورت کی نسبت زیادہ ہے، ایک اضافی فضیلت ہے نہ کہ معیارِ فضیلت، اس موضوع کو علامہ طباطبائی قدس سرہ نے تفسیر شریف المیزان میں ذکر کیا ہے اوراس بات کی وضاحت یہ ہے کہ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ اسلام میں عقل کمال انسانی کا معیار ہے، یعنی جو زیادہ عاقل ہے وہ کمالِ انسانی کے نزدیک تر اور خدا کا مقرب ترین ہے اور جو شخص جس قدر عقل سے دور تر ہے، کمالِ انسانی سے کم بہرہ اور مقامِ قربِ الٰہی سے محروم تر ہے ۔
اس بنا پر چونکہ مرد میں عورت کی نسبت عقل زیادہ ہے، پس مرد عورتوں سے زیادہ خدا کے مقرب تر ہیں، جبکہ یہ استدلال درست نہیں بلکہ مغالطہ ہے جو اشتراکِ لفظ کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے کیونکہ عقل اشتراکِ لفظی کی صورت میں مختلف معانی میں استعمال ہوتی ہے، لہٰذا پہلے یہ واضح ہونا چاہیے کہ کون سی عقل معیارِ کمالِ انسان و قربِ الٰہی ہے اور ثانیاً کس عقل میں عورت و مرد ایک دوسرے سے فرق و تفاوت رکھتے ہیں؟
منشاء مغالطہ یہ ہے کہ اگرچہ کہا جاتا ہے کہ عورت و مرد عقل میں مختلف ہیں اور عقل معیارِقربِ الٰہی ہے اور جس کی عقل زیادہ ہو وہ خدا کے نزدیک تر ہے لیکن وہ عقل جو مقدمہ دوم میں ذکر ہوئی ہے اس عقل سے جدا ہے جو مقدمہ اوّل میں ذکر ہوئی ہے، بعبادتِ دیگر وہ عقل جس میں عورت و مرد فرق رکھتے ہیں وہ اس عقل سے الگ ہے جو تقربِ الی اللہ کی بنیاد ہے، اگر عقل کے دو معانی الگ کیے جائیں اور دونوں مقدمات کو ایک حدِّ وسط کو محفوظ رکھتے ہوئے ایک دوسرے کے ساتھ ذکر کریں تو ہم دیکھیں گے کہ قیاس مرتب ہی نہیں کیا جا سکتا تاکہ اس سے مرد کی عورت پر برتری کا نتیجہ حاصل کیا جائے، کیونکہ وہ عقل جو مرد و عورت میں مختلف ہے، عقلِ نظری ہے جو کہ سیاسی، اقتصادی، عملی،سائنسی وریاضی وغیرہ جیسے مسائل کی مدیریت و انتظام میںدخیل ہے۔
بالفرض اگر یہ ثابت بھی ہو جائے کہ اس طرح کے علوم اورانتظامی مسائل میں مرد کی عقل عورت کی عقل سے زیادہ ہے کہ اس بات کا ثابت کرنا بھی آسان کام نہیں، لیکن یہ سوال پیدا ہو گا کہ آیا وہ عقل جو تقربِ الی اللہ کی بنیاد ہے، وہی ہے جو مرد اور عورت میں مختلف ہے ؟ کیا کہا جا سکتا ہے کہ جو شخص فزکس، ریاضی و طب کے مسائل کو بہتر جانتا ہو، وہ خدا کے نزدیک تر ہے ؟ کیا یہ عقل تقرب کی بنیاد ہے یا وہ عقل جو مٰاعُبِدُ بِہٖ الرَّحْمٰنُ وَاکْتُسِبَ بِہٖ الجَنٰان(ا)ہے،وہ تقرب کی بنیاد ہے؟
بسا اوقات ممکن ہے کہ ایک شخص انتظامی علوم کو عورت سے بہتر سمجھتا ہو لیکن اپنی نفسانی خواہشات کو رسی ڈالنے کی قدرت نہ رکھتا ہو، تمام باطل مذاہب جو انبیاء کے مقابل آکھڑے ہوئے ہیں، مردوں کے ذریعے گھڑے گئے ہیں، اکثر نبوت کا جھوٹا دعویٰ کرنے والے جو انبیاء کے مذہبی مقابلہ کے لیے اٹھے وہ مرد تھے،(۲) قرآنِ کریم فرعون جیسے لوگوں کے بارے میں، جنہوںنے جعلی مذہب ایجاد کیے فرماتا ہے۔
یَقْدُمُ قَوْمَہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ(۳)
قیامت کے دن وہ اپنی قوم کے آگے آگے چلے گا۔
کیاوہ لوگ جو دوسروں سے پہلے جہنم میں گئے اورجائیں گے وہ مرد ہیں یا عورت؟
اس بنا پر اگر کوئی علمی، سیاسی وانتظامی مسائل میں عالی فکر رکھتا ہو تو یہ تقرب الی اللہ کی علامت نہیں بلکہ ایک اضافی فضیلت ہے کیونکہ
(ذٰاکَ عِلْمٌ لاٰ یَضُرُّ مَنْ جَھِلَہُ)(۴)
یہ وہ علم ہے جس سے جہالت نقصان دہ نہیں۔
اگر کوئی دعویٰ کرے کہ مرد کی عقل ’’مٰاعُبِدُ بِہٖ الرَّحْمٰنُ وَاکْتُسِبَ بِہٖ الجَنٰان‘‘ میں عورت سے قوی تر ہے تو اس کا ثابت کرنا ہر گز ممکن نہیں کیونکہ نہ تجربہ اس کی نشاندہی کرتا ہے اور نہ برہان اس کی تائید کرتی ہے، اس کے علاوہ تمام کمالاتِ نظری تفکّرات سے وابستہ نہیں کیونکہ بعض اوقات انسان اچھی طرح سمجھتا ہے لیکن اس کی سمجھ خشونت و غصہ کے ہمراہ ہے، اگر انسان دو طرح کے ہیں، بعض محکم کار ہیں بنام مرد اور بعض ظریف کار ہیں بنام عورت، تو اسماء الٰہی کی بھی دو قسمیں ہیں اور کمالات بھی دو ذرائع سے انسان کو نصیب ہوتے ہیں، بعض کمالات جنگ، قوّام، قیام اور مبارزہ ستم ستیزی کی بنیاد پر ہوتے ہیں اورمظہرِِقہرو جلالِ حقِ تعالیٰ ہیں اور بعض مظہرِ مہر، رافت، عاطفہ، محبت و لطف و جمالِ حق تعالیٰ ہیں، اگر کوئی ان دو صنفوں میںسے ایک مثلاً خشونت و تفکر میں قوی تر ہے، تو یہ اس بات کی دلیل نہیں کہ وہ مہر، عاطفہ،لطف رافت،صفاوصمیمیت ورقت جیسی صفات میں بھی قوی تر ہو۔
ذاتِ مقدس الٰہی عالم کو محورِمحبت پرادارہ سازی کرتی ہے اور بہت سی آیاتِ قرآن درسِ محبت دیتی ہیں اور راہِ محبت کو عورت،مرد سے بہتر درک کرتی ہے، اگرچہ ممکن ہے راہِ قہرو غصب کو مرد عورت سے بہتر درک کرتا ہو۔ (۵)
(حوالہ جات)
(۱) نبوت کے جھوٹے مدعی
(۲) اصول ِ کافی ج ۱،باب ۱،۱
(۳) سورہ ہود آیت ۹۸
(۴)اصول کافی ج،۱، ص۳،۳۲
(۵)زن در آئینہ جلال و جمال ص ۲۲۲،۲۱۷،۲۴۹