عورتوں کی عقل

سوال ۷۴:۔ کیا حدیث شریف علوی ؑ کہ جس میں آپ نے فرمایا: عقول النساء فی جمالھنَ و جمال الرّجال فی عقولھم عورتوں کی عقل ان کی خوبصورتی میں اور مرد کی خوبصورتی ان کی عقل میں ہے یہ عورت کی سرزنش و مذمت اور مرد کی برتری کا ذریعہ نہیں ہے؟
اس سوال کے جواب کے لیے ضروری ہے، اس نکتہ کی طرف توجہ کریں کہ انسان کی روح کی زینت ایمان ہے نہ کہ کوئی اور چیز، جیسا کہ خداوند ِمتعال فرماتا ہے۔
حَبَّبَ إِلَیْْکُمُ الْإِیْمَانَ وَزَیَّنَہُ فِیْ قُلُوبِکُمْ(۱)
خداوند ِمتعال نے تمہارے لیے ایمان کو محبوب قرار دیا اور اسے تمہارے دلوں میں زینت دی۔
انسان کی روح مجرد کیوںہے یہ مادی کیوں نہیں ہے اور ایمان بھی ایک معنوی امر ہے، یہ امر معنوی یعنی ایمان اس امرِمجرد یعنی نفسِ انسان کے لیے مایہ جمال و زینت ہے اور اس بناپر کہ مذکر ومؤنث ہونے کی خصوصیت حقیقت ِ انسان (جو کہ وہی روح ہے) اور اس کے ایمان میں موثر نہیں، یعنی حقیقت ِ انسانی و ایمانی نہ مؤنث ہے اور نہ مذکر بلکہ ایک امر مجرد ہے جو عورت و مرد میں یکساں ہے، اس بناپرمذکورہ حدیث شریف علوی سے معنی دستوری سمجھا جا سکتا ہے نہ کہ معنی وصفی، یعنی مقصود یہ نہیں کہ حدیث شریف انسان کی دو صنفوں کی توصیف کو بیان کرتی ہے کہ عورت کی عقل اس کی خوبصورتی میں منحصرہو اور ہتک وسرزنش کاپہلورکھتی ہو اور مرد کی خوبصورتی اس کی عقل میں ہو اور عنوانِ تعریف رکھتی ہو بلکہ ممکن ہے اس کا معنی ایک تربیتی دستوریا وصف ہو۔
باالفاظِ دیگر عورت کی ذمہ داری ہے اوروہ یہ امور انجام دے سکتی ہے کہ اپنے انسانی عقل و فکرکو گفتار و کردار، روزمرہ کے روابط اور حُسنِ سلوک وغیرہ جیسے امور کے حوالے سے عاطفہ و زیبائی کی ظرافتوںمیں ظاہر کرے،اس طرح مرد کی ذمہ داری ہے اوروہ یہ کام انجام دے سکتا ہے کہ اپنے ہنرو قابلیت کو انسانی فکر اور تفکر ِعقلانی کے ذریعے ظاہر کرے۔
معارفِ ایثار و شہادت سے آگاہ اور ایک سمجھدار عورت یہ صلاحیت رکھتی ہے کہ وہ ایک مہربان ماں کے روپ میں اپنے فرزند کو جہاد کی ترغیب دے اور میدانِ جنگ میں جاتے وقت اسے رخصت کرتے ہوئے اپنی لطیف و پسندیدہ عقل کو ظریف ہنر کے لباس میں ظاہر کرے یا میدان جنگ سے کامیابی کے ساتھ واپسی پر اپنے فرزندکا استقبال کرتے ہو ئے اپنی مضبوط عقلی فکر کو شوق و اشتیاق کے خوبصورت لباس میں ظاہر کرے، یہ فنی ظرافتیںجو کہ عقلی ظرافتوںکا عینی تمثل ہیں،جبکہ ہنرمند مَردوں کے لئے یہ ممکن نہیں ہو گا۔
خلاصہ یہ ہے کہ عورت کو چاہیے کہ حکمت کو فنی ظرافتوں میں پیش کرے اور مرد بالعکس ہے یعنی اس کے لیے ضروری ہے کہ فنی ظرافتوں کو حکمت کے پیرایہ میں جلوہ گر کرے، یعنی عورت کا جلال اس کے جمال میں رکھا گیا ہے اور مرد کا جمال اس کے جلال میں متجلی ہوتاہے، یہ تقسیم کار نہ عورت کے لیے مذمت وہتک ہے اور نہ ہی مرد کے لیے ستائش و برتری بلکہ ان میں سے ہر ایک کے لیے دستور العمل ہے تاکہ ہر کوئی اپنے خاص کام پر مامور ہو، اپنی خاص ذمہ داری کو پورا کرنے کی صورت میں تعریف کا مستحق ہو اورعدم تعمیل کی صورت میں مذمت کا مستحق ہو۔
پس عورت و مردمیں فرق صرف صحیح افکار و خیالات کو پیش کرنے کے طریقہ میںہے، وگرنہ عورت بھی مرد کی طرح علوم و معارف کو حاصل کرنے کی لیاقت رکھتی ہے اور مستحق ِتعریف و تقدیر ہے ۔
دوسری بات جس کی طرف توجہ کرنا ضروری ہے وہ یہ ہے کہ عقل کی دو قسمیں ہیں:
۱۔ عقلِ نظری
۲۔ عقلِ عملی
انسان عقل ِ نظری سے سمجھتا ہے اور عقلِ عملی سے کام انجام دیتا ہے، یقین، عزم، جزم، ظن، گمان، وہم، خیال و غیرہ عقلِ نظری کی خصوصیات میں سے ہیں لیکن نیت، عزم، اخلاص، ارادہ، محبت، تولیٰ، تبریٰ، تقویٰ، عدل وغیرہ عقلِ عملی کے اجزاء ہیں اور یہی عقلِ عملی انسان میں معیارِ فضیلت ہے، عقلِ نظری انسان کی اعلمیت کا معیارہے اور عقلِ عملی انسان کی افضلیت و کرامت کا معیار ہے۔ (۲)
إِنَّ أَکْرَمَکُمْ عِندَ اللَّہِ أَتْقَاکُم (۳)
اس میں کوئی شک نہیں کہ خدا کے نزدیک تم میں سب سے بڑا عزت دار وہی ہے جو بڑا پرہیز گار ہو۔
یہ جو روایت میں آیا ہے کہ’’ عقول النساء فی جمالھن‘‘ (۴)عقلِ نظری کی طرف اشارہ ہے نہ کہ عقلِ عملی کی طرف یعنی اگر مرد و عورت میں عقلی فرق ہو تو وہ عقلِ نظری یا ابزاری میں ہے نہ کہ عقلِ عملی میں۔
عقلِ نظری وہ عقل ہے جس کے ساتھ انسان علمی و دینی مراکزاوریونیورسٹی کے علوم حاصل کرتا ہے تاکہ دنیا کا نظام چلتا رہے اور یہ بھی مردوں کی فضیلت کا معیار نہیں بلکہ معیارِ فضیلت انسان عقلِ عملی ہے، جس کی تعریف میں آیا ہے۔
اَلْعَقْلُ مٰاعُبِدُ بِہٖ الرَّحْمٰنُ وَاکْتُسِبَ بِہٖ الجَنٰان(۵)
عقل وہ ہے کہ جس کے ذریعے سے رحمان کی عباد کی جائے اور جنت حاصل کی جائے۔
انسان اس کے ذریعے خدا کی عبادت کرتا ہے اور جنت کو کسب کرتا ہے اور مقامِ قرب تک پہنچتا ہے، یہ عقل مرد و عورت میں مختلف نہیں۔
اس بنا پر اگر کوئی عورت و مرد میں قضاوت کرنا چاہے تو وہ اصطلاحی عقلِ علمی کو معیار قرار نہ دے (یعنی عقلِ نظری کو ) بلکہ ضروری ہے کہ عقل عملی کو جو کہ قربِ انسانی کا ذریعہ ہے اور معیارِ فضیلت ہے، کو معیار قرار دے، اس صورت میں مردو عورت ہر دو کا جمال اس عقل میں ہے جو ( مٰاعُبِدُ بِہٖ الرَّحْمٰنُ وَاکْتُسِبَ بِہٖ الجَنٰان) ہے، اس صورت میں جَمٰالُ الرَّجٰالِ فیٖ عُقُولِھم‘ ہے اورجَمٰالُ النَّسٰائِ فیٖ عُقُولِھِنَ ہے۔ (۶)
(حوالہ جات)
(۱) سورہ حجرات آیت ۲۴
(۲) مزید وضاحت کیلئے فلسفہ اخلاق،آیتہ اللہ مصباح یزدی دہ گفتار، شہید اُستاد مطہری
(۳)سورہ حجرات آیت ۱۳
(۴)۔بحار الانوار،ج ۱۰۳،ص ۲۲۴
(۵)اصول کافی ج ۱،باب ا،۱۱
(۶) رجوع کریں زن در آئینہ جلال و جمال (آیۃ اللہ جوادی )