امامت ِ حضرتِ زہرا سلام اللہ علیہا

سوال ۷۳ : ۔ کیا حضرت ابراہیمؑ کی تمام عادل اور صالح ذریت مقامِ امامت تک پہنچی ہے ؟ کیا حضرت فاطمۃ الزہرا سلام اللہ علیہابھی مقام امامت تک پہنچی تھیں؟
حضرت ابراہیم ؑ کی دعا کے مطابق آپؑ کی تمام صالح و عادل ذریت مقامِ امامت تک پہنچی ہے البتہ امامت کی دو قسمیں ہیں:
۱۔ امامت ملکوتی جو کہ ولایت سے متعلق ہے۔
۲۔ امامت ملکی جوکہ رہبری و ادارہ امور کی ذمہ داری ہے۔
مہم ترین مقام وہی امامتِ ملکوتی ہے، امامتِ ملکوتی اس معنی میں ہے کہ انسان کے عقائد، اخلاق، اعمال و عبادات عالم بالا کی طرف صعود کریں۔
إِلَیْْہِ یَصْعَدُ الْکَلِمُ الطَّیِّب (۱)
اس کی بارگاہ تک اچھی باتیں(بلند کرو) پہنچتی ہیں۔
ایک معنوی سلوک ہے جو راستہ، رہنما اور صراط مستقیم و رہبر چاہتا ہے، صراط مستقیم وہی حق کاراستہ ہے جو عبد و مولا کے درمیان کھینچا ہوا ہے اور عقائد، اخلاق، عبادات، عقیدہ، خلق اور عبادت کے عظیم قافلہ کا رہبر معصوم ہے، یعنی امام کی نماز تمام نمازوں کی امام ہے، امت کی نمازیں اس کے پیچھے و اوپر پرواز کرتی ہیں، امام کا عقیدہ سب سے آگے حرکت کرتا ہے اور امت کے عقائد اس کے پیچھے حرکت کرتے ہیں، یہ جو کہا جاتا ہے کہ اگر کوئی اوّل وقت میں نماز پڑھے تو وہ امام زمانہ عج کی اقتداء کرتا ہے، اس بات کی طرف ناظر ہے کہ امام زمانہؑ = اوّل وقت میں نماز پڑھتے ہیں تو اس کی مثال ایسی ہے کہ وہ آنحضرتؐ کی اقتداء کرتا ہے۔
پس امامتِ ملکوتی یعنی اخلاق، عقائدو اعمال کی رہنمائی اور سب سے بالاتر ارواح کی رہبری، عقیدہ، خلق و عمل امام کی موصوف ہے، چونکہ یہ تمام موارد ارواح کی صفات ہیں اور ارواح اگر اوپر جانا چاہیں تو امامؑکی روح ان سب سے آگے اور اس کاروان کی رہبر ہے، پس ارواح کی امام،امامؑ کی روح ہے اور عقائد و اخلاق کا امام امام ؑ کا اخلاق و عقیدہ ہے۔
ایسی ملکوتی امامت،حضرت ابراہیم ؑ کی تمام صالح و معصوم ذریت رکھتی ہے اور اس کا عالی ترین درجہ اہل بیتؑ سے مربوط ہے اور وجود مبارک صدیقہ کبریٰؑ ان انوار مقدسہ کا نمایاں ترین نمونہ شمار ہوتا ہے، لیکن امامت ملکی بمعنی انتظامی امور کی رہبری جو کہ لوگوں کے
ساتھ مربوط ہے اور جنگ اور صلح میں شرکت کالازمہ رکھتی ہے، وہ مرَدوں سے مربوط ہے اور عورتوں کو شامل نہیں ہوتی۔

(حوالہ )
(۱)سورہ فاطرآیت ۱۰