معراجِ جسمانی

سوال ۷۲:۔ جب بھی سات آسمانوں کی بات ہوتی ہے، ایسے بیان ہوتا ہے کہ اس سے مراد یہ آسمان نہیں جسے انسان دیکھتا ہے، کیا یہ تعبیر پیامبر ﷺ کی معراجِ جسمانی کے عقیدہ کے منافی نہیں؟
اس سوال کے جواب میں چند باتوں کی طرف توجہ ضروری ہے۔
مطلبِ اوّل: پیامبرِاکرم ﷺ کی معراج میں جسم اور روح دونوں شامل تھے۔
مطلبِ دوم : بعید ہے کہ یہ آسمان جس میں آج کفار و ملحدین راکٹ بھیجتے ہیں وہ آسمان ہوں جس کی طرف قرآن کریم نے اشارہ کیا ہے، کیونکہ قرآن کریم فرماتا ہے:
لاَ تُفَتَّحُ لَہُمْ أَبْوَابُ السَّمَاء(ا)
آسمانوں کے دروازے کفار کے لیے بند ہیں
اگر مقصود یہ ظاہری آسمان ہو تو یہ صحیح نہیں کیونکہ یہ آسمان مسلسل کفار کے راکٹوں کے آنے جانے کا مقام ہے، پس معلوم ہوتا ہے کہ اس آسمان سے آسمانِ معنوی مراد ہے۔
اس بات کا دوسرا شاہد یہ ہے کہ فرمایا:
وَأَوْحَی فِیْ کُلِّ سَمَاء أَمْرَہَا(۲)
ہر آدمی کے امر کواسکے مسئول کی طرف ارسال کردیا ہے
اس وقت ظاہری آسمان جسم کے حکم میں ہیں اور معنوی آسمان بمنزلہ غیب و ارواح ہیں کہ جن کے دروازے کفار کے لیے کھلے نہیں اور مدبرات امر بھی حقیقتاً ان آسمانوں کی ارواح سے مربوط ہیں، باطنی آسمانوں کے انتظام کے زیرِ سایہ ہی ظاہری آسمانوںکا انتظام بھی چلایا جاتا ہے۔
مطلبِ سوم: قرآن کریم فرماتا ہے:
إِنَّا زَیَّنَّا السَّمَاء الدُّنْیَا بِزِیْنَۃٍ الْکَوَاکِب (۳)
ہم ہی نے نیچے والے آسمان کو تاروں آرائش سے آراستہ کیا۔
وہ ستارے جو آپ دیکھتے ہیں یہ سب پہلے آسمان کی زینت شمار ہوتے ہیں، ان تمام مطالب سے یہ نتیجہ حاصل ہوتا ہے کہاولاً: سات آسمانوں سے خدا کا مقصود معنوی آسمان ہیں نہ کہ مادی۔
ثانیاً : پیغمبراکرم ﷺ کی معراج کے ساتھ کوئی منافات نہیں رکھتے کیونکہ آپؐ کی معراج جسمانی بھی تھی اور روحانی بھی ۔

(حوالہ جات)
(۱) سورہ اعراف آیت ۴۰
(۲) سورہ فصلت آیت ۱۲
(۳) سورہ صافات آیت ۶