جنت میں ہمیشہ کی زندگی

سوال ۷۱:۔ کیا جنت میں ختم نہ ہونے والی زندگی تھکا دینے والی نہیں؟
اگر معنی ثبات کو سکون سے الگ کریں اور واضح ہو جائے کہ وہ جگہ دارالقرار ہے نہ کہ دارالسکون، یہ مشکل حل ہو جاتی ہے، سکون نابودی کے ہمراہ ہے، جیسے درخت یاعمارت جو ایک ہی جگہ پر ہے، بالآخر ایک دن بوسیدہ ہو جائے گی اور ختم ہو جائے گی، ثبات، معادلاتِ ریاضی کی طرح ہے جو زمان و مکان نہیں رکھتا، جو چیز زمان و مکان نہیں رکھتی وہ ثابت ہے نہ کہ ساکن۔
کیا ایک دن قانونِ علیت ختم ہو جائے گا ؟ کیا ۲+۲=۴ کا قانون تبدیل ہو جائے گا؟ نہیں! کیونکہ یہ ثابت ہیں، اس دنیا میں تھکاوٹ جسم کے ساتھ مربوط ہے اور روح چونکہ جسم سے متعلق ہے، تھکاوٹ کا احساس کرتی ہے، آخرت میں دنیا کے برعکس بدن روح کے ہمراہ ہے، پھر زوال، تھکاوٹ اور موت کا اس میں کوئی راستہ نہیں، انسان دارالقرار میں پہنچ جاتا ہے۔
موجوداتِ ثابت بہت ہیں، جیسے فرشتے حتیٰ کہ وہ فرشتے جو بدن رکھتے ہیں، بہرحال قیامت میں انسان جسم رکھتا ہے، حس رکھتا ہے، جسمانی لذات رکھتا ہے لیکن اس جگہ کا نظام دنیاوی نظام سے مختلف ہے، اس نظام میں فرسودگی، تھکاوٹ وسکون کا کوئی راستہ نہیں، اس بنا پر ان کو تھکاوٹ بھی نہیں ہوگی۔