ولایتِ تشریعی

سوال ۷۰:۔ ولایت تشریعی اور ولایت بمعنی سرپرستی و حکومت میں فرق واضح کریں اور اس بات کو مدنظر رکھتے ہوئے کہ ولی فقیہ کبھی اپنے اختیارات سے استفادہ کرتا ہے اور حکومتی حکم دیتا ہے، ان دونوں ولایتوں کی حدود کیا ہیں ؟ کیا حکومتی قوانین کی وضع ولایت تشریعی کے معنی میں نہیں ؟
ابتدائی طور پر دو نکات کو مشخّص ہونا چاہیے:
۱۔ تشریع پر ولایت، یعنی حق ِقانون گزاری جو کہ ذاتِ قدس الٰہی سے مختص ہے۔
۲۔ ولایت ِ تشریعی، یعنی قوانین ِ شریعت کی حدود میں کون والی و سرپرست ہے، نہ یہ کہ کون قانون سازی و شریعت سازی کا حق رکھتا ہے۔
عصرِ غیبت میں جو شخص حضرت بقیۃ اللہ عجل اللہ فرجہ الشریف کا جانشین ہے، ولی شمار ہوتا ہے، وہ ولایت رکھتا ہے کہ شریعت کو سمجھے اور اس کو بیان کرے اور اس کی حمایت کرے اور اسے نافذ کرے، فقیہ جامع الشرائط رسمی طور پر تین کام رکھتا ہے، جب ان کی تحقیق ہو جائے گی، تو ہم سمجھ لیں گے کہ فقیہ ایک شخصیتِ حقیقی رکھتا ہے اور ایک شخصیت ِ حقوقی۔
فقیہ جامع الشرائط جو کہ ولی مسلمین ہے، اس جہت سے کہ وہ مرجع تقلید ہے، اگر فتویٰ دے، فلاں چیز حلال ہے اور فلاں چیز حرام، اس پر عمل کرنا خود اس پر اور اس کے مقلدین پر واجب ہے، اگر حکمِ قضائی دے، اس پر عمل کرنا ہر دو طرف دعویٰ پر واجب ہے اور خود اس پر بھی واجب ہے، یعنی اس حکم کا توڑنا خود اس پر بھی حرام ہے اور دونوں طرف دعویٰ پر بھی۔
اگر ولی فقیہ مرحوم مرزا شیرازی کی طرح حکم ولائی دے، یہ پھر فتویٰ نہیں اور حکم قضائی بھی نہیں، حکم ولائی پر عمل کرنا خود ولی فقیہ اور ہر ایک شخص حتیٰ کہ دیگر فقہاء پر بھی واجب ہے۔
اس تجزیہ و تحلیل کے مطابق فقیہ ایک حقوقی شخصیت رکھتا ہے اور ایک حقیقی شخصیت، فقیہ کی حقیقی شخصیت تمام شہریوں کے ساتھ ایک جیسی ہے، لیکن اس کی حقوقی شخصیت کہ وہ مسلمانوں کا رہبر ہے، دوسروں سے الگ ہے، اس تجزیہ و تحلیل کی بازگشت ولایت فقاہت و عدالت کی طرف ہے، فقاہت، ولی مسلمین ہے نہ کہ فقیہ، عدالت،ولی مسلمین ہے نہ کہ فقیہ۔
اس بات کی وضاحت کے لیے ایک مثال کی طرف توجہ کریں، امام رضوان اللہ علیہ اپنی آخری عمر تک انتخابات میں شرکت کرتے تھے، یہ اس جہت سے کہ روح اللہ موسوی خمینیؒ تھے، دفترکے دوسرے افراد سے جدا نہیں تھے، یعنی انہیں کی طرح مثلاً صدر کو ووٹ دیتے تھے، لیکن اس جہت سے کہ مقامِ فقاہت و ولایتِ فقاہت رکھتے تھے، کروڑوں انسانوں کی رائے کو نافذ کرتے تھے، یہ دوجہتیں دو شخصیتِ حقیقی و حقوقی کو واضح کرتی ہیں، اس بناپر ولایت تشریعی فقیہ یعنی حدود شرعی کے اندر ولایت اور ہر گز فقیہ جامع الشرائط تشریع پر ولایت نہیں رکھتا، البتہ کبھی تزاحم سامنے آتا ہے تو موارد تزاحم میں کیا کرنا چاہیے؟ جیسا کہ شخص سائل میں ٹکرائو سامنے آتا ہے، اسی طرح اجتماعی مسائل میں بھی تزاحم پیدا ہوتا ہے، مثال کے طور پر اگر کوئی کشتی پر سوار ہو تو شرعی طور پر حق نہیں رکھتا کہ اپنا مال دریا میں گرائے، کیونکہ اسراف حرام ہے، چنانچہ کشتی سانحہ سے دوچار ہو اور کہیں کہ اس کو ہلکا کرنا چاہیے تو اس صورت میں یا تو انسان دریا میں ڈالے جائیں یا سامان، ایسی صورت میں سامان کو دریا میں ڈالنا واجب ہے اور اسے اسراف و حرام نہیں کہا جا سکتا۔
اگر ایساٹکرائومملکت میں پیدا ہو تو ضروری ہے کہ کوئی ایسا شخص ہو جو آخری بات کرے اور مشکل حل کرے، یہ شخص وہی ولی فقیہ ہے اور اس کا کام بھی ولایت تشریعی کی حدود میں ہے نہ کہ تشریع پر ولایت رکھتا ہے۔