فرشتوں کی خطا

سوال ۶۹:۔ کیا فرشتے مجردات سے نہیں اور ہمیشہ ایک حد میں باقی نہیں رہتے، پس اُن میں سے بعض جیسے فطرس نے خطا کیوںکی؟
البتہ سب فرشتے ایک جیسے نہیں، حاملینِ عرش و وحی فرشتے عالی ترین مقام رکھتے ہیں۔
وَمٰامِنّٰااِلاّٰلَہُ مَقٰامٌ مَعْلُومٌ (ا)
(فرشتے یا آئمہ تو یہ کہتے ہیں کہ) ہم میں سے ہر ایک کا ایک درجہ مقرر ہے۔
حاملینِ وحی فرشتے معصوم ہیں، کیونکہ قرآنِ کریم میں آیا ہے :
لاٰیَعْصُونَ اللّٰہَ(۲)
(فرشتے) اللہ کی نافرمانی نہیں کرتے۔
یہ گروہ تکامل نہیں رکھتے البتہ یہ کہ تمام فرشتے ایک جیسے ہوں یا کوئی فرشتہ انسان کی طرح نفسِ مستکملہ نہ رکھتا ہو، متعین نہیں اور کوئی دلیل نہیں رکھتا۔
واقعہ فطرس بھی اثبات کا محتاج ہے کیونکہ فطرس یونانی لفظ ہے اور شعبان کی تیسری دعا میں بھی اسے فرشتہ نہیں کہا گیا، اس دعا کی عبارت یہ ہے:
وعاذ الفطرس بمھدہٖ
دوسری طرف اس دعا کی سند کی بھی تحقیق ضروری ہے تاکہ اس کے معتبر ہونے کا اندازہ ہو، چنانچہ اگر صحت سند اور فطرس کا فرشتہ ہونا دونوں باتیں ثابت ہوں تو بھی یہ بات درج بالا آیت سے مزاحم نہیں، کیونکہ ممکن ہے فطرس زمینی ملائکہ میں سے ہو اور آسمانی، اخروی ملائکہ سے جدا ہو۔

(حوالہ جات)
(۱) سورہ صافات آیت ۱۶۴
(۲) سورہ تحریم آیت ۶