شادی میں دھوکہ

٭سوال ۱۵۴:۔ایک مرد ایک لڑکی کے ساتھ شادی کرنے کیلئے دھوکہ کرتا ہے وہ اسکی رضامندی حاصل کرنے کے لیے جھوٹ بولتاہے اور خود کو ڈاکٹر یا انجینئر ظاہر کرتا ہے، شادی کے بعد لڑکی کو اسکے فریب کا علم ہو جا تا ہے کیا وہ عقد ختم کر سکتی ہے؟ مہر کے بارے میں کیا حکم ہے؟
تمام مراجع:اگر عقد میں یہ بات بعنوانِ شرط نہ رکھی گئی ہو یا عقد اس بنا پرنہ باندھا گیا ہو تو فسخ کا حق نہیں رکھتی لیکن اگر اسکے بر عکس ہو تو عقد کو ختم کر سکتی ہے، چنانچہ اگر ہمبستری سے پہلے فسخ کرے تو مہرلینے کا حق نہیں اور اگر ہمبستری کے بعد فسخ کرے تو شوہر سے مہر لینے کا حق رکھتی ہے۔(۱)

(حوالہ)
(۱) فاضل ،جامع المسائل، ج۱،س ۱۵۰۲،ہدایۃ العباد، ج۲،العیوب ،م۶،امام تحریر الوسیلہ ،ج۲، العیوب ، م۱۳،سیستانی منہاج الصالحین ،ج۳،م۲۸۲و ۲۸۵،خامنہ ای ، استفتاء ،س ۴۴۲، مکارم ، استفتاء ،ج ۹۴۸،و ۹۵۴، دفتر :نوری ، بہجت، تبریزی و وحید