تدلیس(دھوکہ )کا معنی

٭سوال۱۵۱:۔دھوکہ و فریب کا حکم بیان کریں؟
تمام مراجع:اگردھوکہ و فریب ایسے عیوب کو چھپانا ہو کہ جو عقد کے فسخ و باطل ہونے کا موجب ہیں تو دوسری طرف والا عقد کو فسخ کر سکتا ہے، لیکن اگر دوسرے عیوب چھپانے سے تدلیس کرے (جیسے بکارت کا نہ ہونا و بانجھ پن) یا بڑے عہدہ و رتبہ و در آمد کا اظہار ہو جیسے سپشلسٹ ڈاکٹر ہونا، بہت زیادہ تنخواہ وغیرہ چنانچہ عقد میں شرط رکھی ہو یا عقد ان امور پر مبنی ہو تو وہ عقد کو فسخ کر سکتے ہیں۔(۱)
وضاحت: وہ عیوب کہ اگر عورت میں ہوں تو مرد عقد کو (بغیر طلاق کے ) فسخ کر سکتا ہے، درج ذیل ہیں۔
دیوانگی،جذام(کوڑھ)،برص(سفید کوڑھ)اندھا پن،اپاہج(چلنے پھرنے سے معذور) افضاد(پیشاپ اور حیض یا حیض اور پاخانہ کے راستے کا ایک ہو جانا) ،رحم میں گوشت، ہڈی یا غدود کا موجود ہونا۔
وہ عیوب کہ اگر مرد میں ہوتو عورت عقد کو (بغیر طلاق کے ) فسخ کر سکتی ہے ، وہ درج ذیل ہیں ۔
دیوانگی ، آلہ تناسل کا نہ ہونا، جنسی قربت کی عدم توانائی، مرد کے بیضوں کا نہ ہونا۔(۲)

(حوالہ جات)
(۱) امام، تحریر الوسیلہ ، ج۲، التدلیس، م۱۳، صافی ، ہدایۃ العباد، جا۳، التدلیس، م ۱۳، سیستانی ، منہاج الصالحین ،ج۳،م۲۸۲و ۲۷۹،فاضل ،جامع المسائل، ج۱، س ۱۵۰۰،مکارم استفتاء ات ،ج۲، س ۹۸۱و ۹۵۴،خامنہ ای ، استفتاء ات ، س ۴۴۲و دفتر :بھجت، وحید، نوری،تبریزی
(۲) توضیح المسائل مراجع ،م ۲۳۸۰و ۲۳۸۱