دوسری شادی

٭سوال۱۴۸:۔ کیا عورت عقدِ ازدواج کے ضمن میں شرط رکھ سکتی ہے کہ اسکا شوہر دوسری بیوی اختیار نہ کرے گا؟
آیات عظام امام، بہجت، خامنہ ای ، فاضل ،مکارم ونوری: نہیں یہ شرط صحیح اور مؤثر نہیں ہے، لیکن اگر شرط رکھے کہ عورت شوہر کی وکیل ہو چنانچہ شوہر دوسری شادی کرے تووہ خود کو طلاق دے دے یہ صحیح ہے۔(۱)
آیاتِ عظام تبریزی ، سیستانی و صافی: ہاں یہ شرط صحیح و مؤ ثر ہے اور اگر شوہر شادی کے بعد اس شرط پر عمل نہ کرے اور ازدواجِ مجدّد یعنی دوسری شادی کر ے تو اس نے گناہ کیا ہے۔(۲)
آیت اللہ وحید: بنا بر احتیاطِ واجب، یہ شرط صحیح و مؤثر و نافذ نہیں ہے، لیکن اگر شرط کرے کہ عورت شوہر کی وکیل ہو چنانچہ جب بھی شوہر دوسری شادی کرے وہ خود کو طلاق دے دے ، یہ صحیح ہے۔(۳)

(حوالہ جات)
(۱) امام، استفتاء ات ، ج۳، احکام ازدواج، س ۵۵،مکارم ، استفتاء ات ،ج۲،س ۹۰۷، خامنہ ای ،استفتاء ،س ۷،فاضل ، جامع المسائل ،ج۱،س ۱۵۳۳، نوری ، استفتاء ات ،ج۲،۴۳۷ و توضیح المسائل ،م ۲۵۳۴،دفتر: بہجت
(۲) سیستانی ، منہاج الصالحین ، ج۲، م۳۳۳،تبریزی ،منہاج الصالحین ، ج۲،م۱۳۹۵، صافی ، جامع الاحکام ، ج۲،۱۲۵۵
(۳) وحید، منہاج الصالحین ،ج۳،م۱۳۵۹