ur

دشمن کے مکر و فریب کی دعا

[separator top=”-20″ bottom=”-40″ style=””]
اُنچاسویں دعا
49۔ دشمن کے مکر و فریب کی دعا

اے میرے معبود! تو نے میری رہنمائی کی مگر میں غافل رہا تو نے پند و نصیحت کی مگر میں سخت دلی کے باعث متاثر نہ ہوا۔ تو نے مجھے عمدہ نعمتیں بخشیں، مگر میں نے نافرمانی کی ۔ پھر یہ کہ جن گناہوں سے تو نے میرا رخ موڑا جب کہ تو نے مجھے اس کی معرفت عطا کی تو میں نے ( گناہوں کی برائی کو ) پہچان کر توبہ و استغفار کی جس پر تو نے مجھے معاف کر دیا اور پھر گناہوں کا مرتکب ہوا تو تو نے پردہ پوشی سے کام لیا اے میرے معبود ! تیرے ہی لیے حمد و ثنا ہے۔

میں ہلاکت کی وادیوں میں پھاندا اور تباہی و بربادی کی گھاٹیوں میں اترا۔ ان ہلاکت خیز گھاٹیوں میں تیری قہرمانی سخت گیریوں اور ان میں در آنے سے تیری عقوبتوں کی سامنا کیا۔ تیری بارگاہ میں میرا وسیلہ تیری وحدت و یکتائی کا اقرار ہے اور میرا ذریعہ صرف یہ ہے کہ میں نے کسی چیز کو تیرا شریک نہیں جانااور تیرے ساتھ کسی کو معبود نہیں ٹھہرایا اور میں اپنی جان کو لیے تیری رحمت و مغفرت کی جانب گریزاں ہوں اور ایک گنہگار تیری ہی طرف بھاگ کر آتا ہے اور ایک التجا کرنے والا جو اپنے حظ و نصیب کو ضائع کرچکا ہو تیرے ہی دامن میں پناہ لیتا ہے۔

کتنے ہی ایسے دشمن تھے جنہوں نے شمشیر عداوت کو مجھ پر بے نیام کیا اور میرے لیے اپنی چھری کی دھار کو باریک اور اپنی تندی و سختی کی باڑ کو تیز کیا اور پانی میں میرے لیے مہلک زہروں کی آمیزش کی اور کمانوں میں تیروں کو جوڑ کر مجھے نشانہ کی زد پر رکھ لیا اور ان کی تعاقب کرنے والی نگاہیں مجھ سے ذرا غافل نہ ہوئیں اور دل میں میری ایذارسانی کے منصوبے باندھتے اور تلخ جرعوں کی تلخی سے مجھے پیہم تلخ کام بناتے رہے۔

تو اے میرے معبود ! ان رنج و آلام کی برداشت سے میری کمزوری اور مجھ سے آمادہ پیکار ہونے والوں کے مقابلہ میں انتقام سے میری عاجزی اور کثیر التعداد دشمنوں اور ایذا رسانی کے لیے گھاٹ لگانے والوں کے مقابلہ میں میری تنہائی تیری نظر میں تھی جس کی طرف سے میں غافل اور بے فکر تھا کہ تو نے میری مدد میں پہل اور اپنی قوت اور طاقت سے میری کمر مضبوط کی ۔ پھر یہ کہ اس کی تیزی کو توڑ دیا اور اس کے کثیر ساتھیوں ( کو منتشر کرنے) کے بعد اسے یکہ و تنہا کر دیا اور مجھے اس پر غلبہ و سربلندی عطا کی اور جو تیر اس نے اپنی کمان میں جوڑے تھے وہ اسی کی طرف پلٹا دیئے۔ چنانچہ اس حالت میں تو نے اسے پلٹا دیا کہ نہ تو وہ اپنا غصہ ٹھنڈا کر سکا اور نہ اس کے دل کی تپش فرو ہو سکی۔ اس نے اپنی بوٹیاں کاٹیں اور پیٹھ پھرا کر چلا گیا اور اس کے لشکر والوں نے بھی اسے دغا دی۔

اور کتنے ہی ایسے ستمگر تھے جنہوں نے اپنے مکر و فریب سے مجھ پر ظلم و تعدی کی اور اپنے شکار کے جال میرے لیے بچھائے اور اپنی نگاہ جستجو کا مجھ پر پہرا لگا دیا اور اس طرح گھاٹ لگا کر بیٹھ گئے جس طرح درندہ اپنے شکار کے انتظار میں موقع کی تاک میں گھات لگا کر بیٹھتا ہے درآنحالیکہ وہ میرے سامنے خوشامدانہ طور پر خندہ پیشانی سے پیش آتے اور (در پردہ) انتہائی کینہ توز نظروں سے مجھے دیکھتے تو جب اے خدائے بزرگ و برتر ان کی بد باطنی و بدسرشتی کو دیکھا تو انہیں سر کے بل انہی کے گڑھے میں الٹ دیا اور انہیں انہی کے غار کے گہراؤ میں پھینک دیا اور جس جال میں مجھے گرفتار دیکھنا چاہتے تھے خود ہی غرور و سربلندی کا مظاہرہ کرنے کے بعد ذلیل ہوکر اس کے پھندوں میں جا پڑے اور سچ تو یہ ہے کہ اگر تیری رحمت شریک حال نہ ہوتی تو کیا بعید تھا کہ جو بلاؤ مصیبت ان پر ٹوٹ پڑی ہے وہ مجھ پر ٹوٹ پڑتی۔

اور کتنے ہی ایسے حاسد تھے جنہیں میری وجہ سے غم و غصہ کے اچھو اور غیظ و غضب کے گلو گیر پھندے لگے اور اپنی تیز زبانی سے مجھے اذیت دیتے رہے اور اپنے عیوب کے ساتھ مجھے متہم کرکے طیش دلاتے رہے اور میری آبرو کو اپنے تیروں کا نشانہ بنایا اور جن بری عادتوں میں وہ خود ہمیشہ مبتلا رہے وہ میرے سر منڈھ دیں اور اپنی فریب کا ریوں سے مجھے مشتعل کرتے اور اپنی دغا بازیوں کے ساتھ میری طرف پر تولتے رہے تو میں نے اے میرے اللہ تجھ سے فریاد ر سی چاہتے ہوئے اور تیری جلد حاجت روائی پر بھروسا کرتے ہوئے تجھے پکارا درآنحالیکہ یہ جانتا تھا کہ جو تیرے سایہ حمایت میں پناہ لے گا ، وہ شکست خوردہ نہیںہو گا اور جو تیرے انتقام کی پناہ گاہ محکم میں پناہ گزیں ہو گا وہ ہراساں نہیں ہوگا ۔ چنانچہ تو نے اپنی قدرت سے ان کی شدت و شرانگیزی سے مجھے محفوظ کر دیا۔

اور کتنے ہی مصیبتوں کے ابر ( جو میرے افق زندگی پر چھائے ہوئے ) تھے تو نے چھانٹ دیئے اور کتنے ہی نعمتوں کے بادل برسادیئے اور کتنی ہی رحمت کی نہریں بہا دیں اور کتنے ہی صحت و عافیت کے جامہ پہنا دیئے اور کتنی ہی آلام و حوادث کی آنکھیں (جو میری طرف نگران تھیں ) تو نے بے نور کر دیں اور کتنے ہی غموں کے تاریک پردے (میرے دل پر سے ) اٹھا دیئے ۔

اور کتنی ہی اچھے گمانوں کو تو نے سچ کر دیا اور کتنی ہی تہی دستیوں کا تو نے چارہ کیااور کتنی ہی ٹھوکروں کو تو نے سنبھالااور کتنی ہی ناداریوں کو تو نے (ثروت سے) بدل دیا۔ (بارالٰہا !) یہ سب تیری طرف سے انعام و احسان ہے اور میں ان تمام واقعات کے باوجود تیری معصیتوں میں ہمہ تن منہمک رہا۔ (لیکن) میری بداعمالیوں نے تجھے اپنے احسانات کی تکمیل سے روکا نہیں اور نہ تیرا فضل و احسان مجھے ان کاموں سے جو تیری ناراضگی کا باعث ہیں باز رکھ سکا۔

اور جو کچھ تو کرے اس کی بابت تجھ سے پوچھ گچھ نہیں ہو سکتی ۔ تیری ذات کی قسم ! جب بھی تجھ سے مانگا گیا تو نے عطا کیا اور جب نہ مانگا گیا تو تو نے ازخود دیا اور جب تیرے فضل وکرم کے لیے جھولی پھیلائی گئی تو توُ نے بخل سے کام نہیں لیا ۔

اے میرے مولا و آقا! تو نے کبھی احسان و بخشش اور تفضّل و انعام سے دریغ نہیں کیا او ر میں تیرے محرمات میں پھاندتا تیرے حدود و احکام سے متجاوز ہوتا اور تیری تہدید و سرزنش سے ہمیشہ غفلت کرتا رہا۔

اے میرے معبود! تیرے ہی لیے حمد و ستائش ہے جو ایسا صاحب اقتدار ہے جو مغلوب نہیں ہو سکتا ۔ اور ایسا بردبار ہے جو جلدی نہیں کرتا۔ یہ اس شخص کا مؤقف ہے جس نے تیری نعمتوں کے مقابلہ میں کوتاہی کی ہے اور اپنے خلاف اپنی زیاں کاری کی گواہی دی ہے۔

اے میرے معبود! میں محمدؐ کی منزلت بلند پایہ اور علی ؑ کے مرتبہ روشن و درخشاں کے واسطہ سے تجھ سے تقرب کا خواستگار ہوں اور ان دونوں کے وسیلہ سے تیری طرف متوجہ ہوں تاکہ مجھے ان چیزوں کی برائی سے پناہ دے جن سے پناہ طلب کی جاتی ہے۔ اس لیے کہ یہ تیری تو نگری و وسعت کے مقابلہ میں دشوار اور تیری قدرت کے آگے کوئی مشکل کام نہیں ہے اور تو ہر چیز پر قادر ہے۔

لہذا تو اپنی رحمت اور دائمی توفیق سے مجھے بہرہ مند فرما کہ جسے زینہ قرار دے کہ تیری رضا مندی کی سطح پر بلند ہو سکوں اور اس کے ذریعہ تیرے عذاب سے محفوظ رہوں۔ اے تمام رحم کرنے والوں میں سب سے بڑھ کر رحم کرنے والے !