ur

خلقتِ شیطان

سوال۳۰: اللہ تعالیٰ نے شیطان کو کیوں خلق کیا اور اسے مہلت دی تاکہ وہ انسان کو گمراہ کرے؟
پہلی بات تو یہ ہے کہ اگرچہ شیطان نے فرمان الٰہی کی نافرمانی کی لیکن بہرصورت وہ بھی مخلوق خدا ہے اورکائنات میں موثرہے،بعض بزرگانِ عرفان و حکمت نے شیطان کو سکھائے ہوئے کتے کے ساتھ تشبیہ دی ہے کہ جو دوسروں کو اذیت دیتا ہے اور اپنے لوگوں کے ساتھ کوئی کام نہیں رکھتا۔
قرآن مجید بھی ان لوگوں کے بارے میں جو شیطانی وسوسوںاور اذیتوں کے مستحق ہیں کہتا ہے:
اَلَمْ تَرَ اَنَّآ اَرْسَلْنَا الشَّيٰطِيْنَ عَلَي الْكٰفِرِيْنَ تَـــؤُزُّہُمْ اَزًّا(۱)
کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ ہم نے شیاطین کو کفار پر مسلط کر رکھا ہے جو انہیں اکساتے رہتے ہیں ؟
اِنَّمٰا سُلْطٰانُہُ عَلَی الَّذِیْنَ یَتَوَلَّو نَہٗ وَالَّذِیْنَ ھُمْ بِہِ مُشْرِکُوْنَ(۲)
اس کی بالادستی تو صرف ان لوگوں پر ہے جو اسے اپنا سرپرست بناتے ہیں اور جو اللہ کے ساتھ شریک ٹھہراتے ہیں ۔
ان آیات سے اچھی طرح واضح ہوتا ہے کہ وہ لوگ جو اپنے سوء اختیار سے ولایت الٰہی سے روگردان ہوئے، وہ شیطان کے اسیر ہونے کے مستحق ہیں لیکن نیک اور الہامات رحمانی سے بہرہ مند انسانوں کے بارے میں فرماتا ہے:
اِنَّ عِبٰدِی لَیْسَ لَکَ عَلَیْھِمْ سُلْطٰانٌ اِلَّا مَنِ اتَّبَعَکَ مِنَ الغٰاوِیْنَ(۳)
جو میرے بندے ہیں ان پر یقیناًتیری بالادستی نہ ہوگی سوائے ان بہکے ہوئے لوگوں کے جو تیری پیروی کریں۔
اب سوال میں تین موضوعات(خدا، انسان، شیطان)ذکر ہیں، اگرچہ ان کے بارے میں بعض مباحث باہم تداخل رکھتی ہیں لیکن ہم یہاں الگ الگ تحقیق کرتے ہیں۔
الف: خداوندمتعال
۱۔ خلقت ِانسان سے اللہ کی غرض اسے کمال تک پہنچانا ہے،یعنی ہدف و غرض فعل خدا کے ساتھ مربوط ہے، نہ کہ فاعل کے ساتھ کیونکہ اللہ تعالیٰ خود مطلقاً کامل ہے اور اس کی ذات کے لیے ہدف وغایت کو تصور نہیں کیا جا سکتا۔
۲۔ کمال انسان کا ظہور معرفت الٰہی ہے اور معرفت بھی اس کی عبادت کے ساتھ جڑی ہوئی ہے، اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَمَا خَلَقْتَ الْجِنّٰ وَالاِنْسَ اِلاَّ لِیَعْبُدُوْنَ(۴)
میں نے جن و انسان کو صرف اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا ہے
کامل مطلق ذات(خداوندمتعال) کی عبادت و معرفت سے انسانی کمال وجود میں آتا ہے۔
۳۔ عبادت کرنے والے انسان کو صرف اس صورت میں عالی کمال کی طرف حرکت کی حالت میں شمار کیا جا سکتا ہے،جب وہ اپنے علم و اختیار سے اس راستے کو منتخب کرے، نہ کہ فرشتوں کی طرح تکوینی عبادت کرے اور اللہ کی نافرمانی و معصیت کی قدرت نہ رکھتا ہو۔
بَلْ عِبٰاد مُکٰرْمُوْنَ لَا يَسْبِقُوْنَہٗ بِالْقَوْلِ وَہُمْ بِاَمْرِہٖ يَعْمَلُوْنَ(۵)
بلکہ یہ تو اللہ کے محترم بندے ہیں ،وہ تو اللہ (کے حکم) سے پہلے بات (بھی) نہیں کرتے اور اسی کے حکم کی تعمیل کرتے ہیں ۔

جلوہ ای کرد رخش دید ملک عشق نداشت

ترق در غیرت شد و آتش بہ مہرا پردہ آدم زد
اس نے اپنے رخ کا جلوہ دکھایا اور دیکھا کہ فرشتے عشق نہیں رکھتے وہ غیرت میں غرق ہوگیا اور آدم کے پردے کو آگ لگا دی۔
اس وجہ سے اللہ تعالیٰ نے انسان کو خودمختار(پیدا کیا)اورراہِ سعادت و شقاوت کو اس کے اختیار میں قرار دیا۔
اِنّٰا ھَدَیْنَا السَّبِیْلَ اِمَاشٰاکرًا وَاِمَّا کَفُورًا(۶)
ہم نے اسے راستے کی ہدایت کر دی خواہ شکر گزار بنے اور خواہ ناشکرا۔
ہم نے انسان کو راستہ دکھا دیا ہے اب چاہے تو شکر گزار بنے یا منکر۔
۴۔ یہیں سے مسئلہ امتحان خلقت انسان کے اہداف کے سلسلہ میں سے ایک سلسلہ کے طورپرسامنے آتا ہے،امتحان اختیار انسان کا ظہور ہے اور مقام تعجب نہیں کہ قرآن کریم کی بہت سی آیات میں اسی مسئلہ کا مختلف انداز میں ذکر نظر آتا ہے۔
اِنَّا خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنْ نُّطْفَۃٍ اَمْشَاجٍ، نَّبْتَلِيْہِ(۷)
ہم نے انسان کو ایک مخلوط نطفے سے پیدا کیا کہ اسے آزمائیں
۵۔ ایک واقعی، حقیقی امتحان کا ثبوت صرف انسان کے خیروشردونوں اطراف میں سے کسی ایک کے انتخاب کی قدرت میں میسرہے،اللہ تعالیٰ نے انسان کو اپنی مخلوقات میں برگزیدہ قراردیا ہے اورصرف اس کی خلقت پراپنے آپ کو مبارک باد دیتا ہے۔
فَتَبٰارَکَ اللّٰہُ اَحْسَنَ الخٰالِقِیْن(۸)
پس بابرکت ہے وہ اللہ جو سب سے بہترین خالق ہے
اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے (راہِ)کمال وخیرکے انتخاب کے بہت سے وسائل انسان کے سپرد کیے ہیں، جن میں سے کچھ موارد کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے۔
الف:اس کی خلقت اللہ تعالیٰ کی طرف طبیعی جھکائو و فطرت کی بنیادپرہے۔
فَأَقِمْ وَجْہَکَ لِلدِّیْنِ حَنِیْفاً فِطْرَۃَ اللَّہِ الَّتِیْ فَطَرَ النَّاسَ عَلَیْْہَا(۹)
پس (اے نبی) یکسو ہو کر اپنا رخ دین (خدا) کی طرف مرکوز رکھیں ،(یعنی) اللہ کی اس فطرت کی طرف جس پر اس نے سب انسانوں کو پیدا کیا ہے
ب:انسان کی ہدایت کے لیے اللہ تعالیٰ امدادکرتا ہے۔
قُلِ اللّہُ یَہْدِیْ لِلْحَقِِّّ(۱۰)
پیامبرکہہ دو!اللہ ہی حق کی طرف راہنمائی کرنے والا ہے
ج:انسان کو اچھائیوں و برائیوں کا الہام تاکہ وہ علم و آگاہی سے کسی ایک کا انتخاب کر سکے۔
فَأَلْہَمَہَا فُجُورَہَا وَتَقْوَاہَا(۱۱)
پس ہم نے اس کوفجورو تقویٰ کا الہام فرمایا
د: انسان کی طبیعت میں خدا پر ایمان کو محبوب و پسندیدہ قرار دینا۔
حَبَّبَ إِلَیْْکُمُ الْإِیْمَانَ وَزَیَّنَہُ فِیْ قُلُوبِکُم(۱۲)
خدا نے تمہارے لیے ایمان کو محبوب بنا دیا ہے اور اسے تمہارے دلوں میں آراستہ کردیاہے۔
ھ: زندگی کے سفر میں خصوصی طور پر مومنین کی امداد کرنا۔
اِنّٰا لَنَنْصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِیْنَ آمَنُوْا فِی الحَیَاۃِ الدُّنْیَا(۱۳)
ہم اپنے رسولوں اورا یمان لانے والوں کی دنیاوی زندگی میں بھی مدد کرتے رہیں گے۔
و: انسان کی کوشش کے مطابق ہدایت کے راستوں کو کھولنا۔
وَالَّذِیْنَ جَاھَدُوا فِیْنَا لَنھَدِْیَنَّھُمْ سُبُلَنٰا وَاِنَّ اللّٰہَ لََمَعَ الْمُحْسِنِیْنَ (۱۴)
اور جو ہماری راہ میں جہاد کرتے ہیں ہم انہیں ضرور اپنے راستے کی ہدایت کریں گے اور بیشک اللہ نیکی کرنے والوں کے ساتھ ہے۔
ء: خیروسعادت کے لیے ان تمام امکانات کے باوجود شر کی طرف بھی ایک قوت کا ہونا ضروری تھا تاکہ اختیاروامتحانِ حقیقی وجودمیں آسکے،یہ قوتیں الہاماتِ الٰہی کے مقابل انسان کو برائی کی طرف وسوسہ کرتی ہیں تاکہ وہ دو دعوتوں کے درمیان خود ایک راستے کا انتخاب اور برائی کی طرف جھکائو کے عوامل کے ساتھ مقابلہ کرے اور اس جدوجہد سے انسان کمال کے عالی ترین درجات پردسترس حاصل کرے،اس وجہ سے خلقت انسان سے الٰہی ہدف وغرض کے پورا ہونے کے لیے نظام کائنات میں ایسی قوتوں کی خلقت ضروری تھی تاکہ خیر کی شر، حسن کی قبیح، خوب کی بد سے تمیز و تشخیص اور راہ حق میں جدوجہد کا امکان موجود ہو۔
ی:شیطان کی نافرمانی اور درگاہِ الٰہی سے اس کا مردود ہونا اور انسانوں کو گمراہ کرنے کے تقاضے کے پیشِ نظر(انسانوں کو ورغلانے کے لیے)اس کی طرف سے تقاضا کی گئی مہلت سے اللہ تعالیٰ نے اپنے ہدف کی انجام دہی کے لیے اسے بہترین انتخاب جانا اور مہلت کی درخواست پرمبنی اس کے تقاضے کو اجمالی طورپرپوراکرنے کی چھٹی دی تاکہ وہ عوامل ہدایت الٰہی کے مقابلہ میں انسان کو برائی کی طرف وسوسہ کر سکے لیکن اس سے زیادہ طاقت اسے نہیں دی تاکہ انسان کے امتحان اور مومنین کی غیرمومنین سے تمیزپرمبنی اپنے ہدف کے راستے میں کردارادا کرے۔
وَمَا کَانَ لَہُ عَلَیْْہِم مِّن سُلْطَانٍ إِلَّا لِنَعْلَمَ مَن یُؤْمِنُ بِالْآخِرَۃِ مِمَّنْ ہُوَ مِنْہَا فِیْ شَک(۱۵)
اورشیطان کوان پراختیارحاصل نہ ہوتامگرہم یہ جانناچاہتے ہیںکون آخرت پرایمان رکھتاہے اورکون اس کی طرف سے شک میں مبتلاہے۔
یے:انسان
انسان دو بعدی اور روح و جسم سے مرکب موجودہے،وہ روح(جوکہ روح الٰہی میں سے ایک نفحہ ہے)(۱۶)کے تقاضے کے مطابق کمال کی طرف جھکائو اور اپنے ہدف خلقت کی طرف حرکت کا جذبہ رکھتا ہے، قرآن نے اس مسئلہ کو ان آیات میں بیان فرمایا ہے۔
یَاأَیُّہَاالْإِنسَانُ إِنَّکَ کَادِحٌ إِلَی رَبِّکَ کَدْحاً فَمُلَاقِیْہِ(۱۷)
اے انسان تو اپنے پروردگار کی طرف جانے کی کوشش کر رہا ہے تو ایک دن اس کا سامنا کرے گا ۔
انسان اپنے جسم جو کہ مٹی سے بنایا گیا ہے کے تقاضوں کے مطابق عالم پست و طبیعت مادی کی طرف رحجان رکھتا ہے۔

میل جان اندر ترقی و شرف

میل تن در کسب اسباب و علل
روح ترقی وکمال کی طرف جاناچاہتی ہے جبکہ جسم اسباب و علل کے حصول میں لگا رہتا ہے ۔
۲۔ گزشتہ باتوں سے معلوم ہو گیا کہ انسان کی طبیعت میں دو قوتیں موجود یں،ایک قوت جو اس کو بلندی کی طرف کھینچتی ہے اور ایک قوت جو اسے سقوط و تباہی کی طرف چلاتی ہے،اسے کبھی نفس امارہ(برائی کی طرف حکم دینے و الانفس) سے یاد کیا جاتا ہے۔
اِنَّ النَّفْسَ لاَمََاّٰرَۃٰ بِالسَّوئِ اِلّٰا مٰا رَحِمَ رَبِّی(۱۸)
کیونکہ نفس بہرحال برائیوں کا حکم دینے والاہے مگریہ کہ میراپروردگاررحم کرے ۔
۳۔ اوپردرج دونوں قوتیں ذاتِ انسانی کوایک مختارذات قراردیتی ہیں تاکہ وہ خیروشرمیں سے کسی ایک کاانتخاب کرے،اس سے مسئلہ امتحان کوذات انسانی کی تحلیل سے
اچھی طرح سمجھا جا سکتا ہے۔
۴۔ خیروسعادت کی طرف راہنما اندرونی قوت کی بیرونی قوتوں کی طرف سے بہت سے وسائل سے امداد کی جاتی ہے،گذشتہ حصہ میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے خصوصی حمایتوں کی طرف اشارہ کیاگیاہے،اللہ تعالیٰ راہِ حق میں استقامت کرنے والوں کی مدد کے لیے ان قوتوں کو بھیجتا ہے۔
اِنَّ الَّذِیْنَ قَالُوا رَبُّنَا اللَّہ ثُمَّ اسْتَقَامُوا تَتَنَزَّلُ عَلَیْھِمُ الْمَلَائِکَۃُ(۱۹)
بے شک وہ لوگ جنہوں نے کہا ہمارا رب اللہ ہے اور پھر استقامت کی ان پر ملائکہ نازل ہوتے ہیں۔
۵۔ اس کے مقابلہ میں شر کی طرف اندرونی قوت کی بھی بیرونی قوت سے حمایت ہونی چاہیے، پس شیطان کو اس ذمہ داری کے لیے بہترین قراردیاگیا۔
۶۔ نتیجہ یہ ہے کہ اگرچہ شیطان شر کی طرف بلاتا ہے لیکن کلی (نظام کائنات میں اس کا) وجود امرخیرشمار ہوتا ہے کیونکہ وہ لاشعوری طور پر کمال کے متلاشی انسانوں کے لیے حق و باطل کی اندرونی کشمکش میں کمال کے عالی ترین مدارج تک رسائی کا باعث بنتا ہے۔
ج:شیطان
شیطان جو سرکش موجودکاوصف بیان کرنے والا ہے اس کا اولین ظہورابلیس میں تھا،جو قرآن کی تصریح کے مطابق جنوں میں شمار ہوتا تھا۔
کَانَ مِنَ الْجِنّ فَفَسَقَ عَنْ أمْرِ رَبّہٖ(۲۰)
وہ جنوں میں سے تھا پھر اس نے حکم خدا سے سرتابی کی۔
۲۔ جن بھی انسان کی طرح موجود مختار ہے، جس کی خلقت کا مقصد یہ ہے کہ وہ معرفت و عبادت کے ذریعے کمال تک پہنچے۔
وَمَا خَلَقْتُ الجِنَّ وَ الْاِنْسَ اِلَّا لِیَعْبُدُوّنَ(۲۱)
میں نے جن وانسان کو صرف اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا ہے
اس بنا پر شیطان کی خلقت وسوسہ کرنے اور گمراہ کرنے کی غرض سے نہیں بلکہ اس راستے کا انتخاب خوداس کے سوئِ اختیار کی بنیادپرتھا،اللہ تعالیٰ نے بھی اس لحاظ سے ہر مختار موجود کی طرح اسے بھی اذن دے رکھا ہے۔
۳۔ ابلیس اپنے اختیار سے طویل مدت تک اللہ تعالیٰ کی عبادت میں مشغول رہا،یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اسے فرشتوں کے درمیان جگہ دی، حضرت علی ؑ اس مدت کوچھ ہزارسال بیان فرماتے ہیں(۲۲)، البتہ یہ معلوم نہیں کہ یہ سال دنیاوی سال ہیں یا اخروی سال ہیں کہ جن کا ہرایک روزدنیا کے ہزارسالوں کے برابر ہے۔
فِی یَومٍ کَانَ مِقْدَارُہٗ اَلْفَ سَنَۃٍ مِمَّا تَعُدُّوْنَ(۲۳)
جس کی مقدار تمہارے شمار کے مطابق ایک ہزارسال ہے۔
۴۔ شیطان نے اپنے سوء اختیار اور قیاس باطل کی پیروی کرتے ہوئے(یہ کہ اللہ تعالیٰ نے اسے آگ سے پیداکیااور انسان کو مٹی سے اورآگ مٹی سے بلندترہے، لہٰذا میں انسان سے برتر ہوں)تکبرکیا اورآدم کو سجدہ کرنے کے فرمانِ الٰہی کی مخالفت کی یہ فرمان اس کے لیے ایک امتحان تھا اور یہ بظاہر آسمانی موجود اپنے اختیار سے راہ شر کا انتخاب کر کے گرداب ہلاکت میں گرا اور درگاہ مقدس الٰہی اور فرشتوں کی ہمراہی سے مردود ہوا تاکہ سب کو بتایا جائے کہ اختیار کا لازمہ یہ ہے کہ مختار ہمیشہ حالت خوف و امید میں رہے اور کبھی اپنے آپ سے مطمئن نہ ہو اور ہمیشہ ذات ِمقد ِس الٰہی سے امداد طلب کرتا رہے۔
۵ ۔ اللہ تعالیٰ عادل ہے اور ذرہ برابر بھی ظلم نہیں کرتا اور ہر کسی کے اجر کو اس کے استحقاق سے زیادہ عطا کرتا ہے،ابلیس نے نافرمانی کی اور اللہ کے مقابلہ میں آکھڑا ہوا اورواضح ہے کہ ایسا موجود جنت میں نہیں جا سکتا لیکن دوسری طرف اس نے بہت زیادہ عبادت کی تو اللہ تعالیٰ نے اپنے عدل کے تقاضے کے مطابق اسے جزاء دی،یہ جزاء بھی اصولاًدنیاوی جزاء ہے اور کس قدر عادلانہ بات ہے کہ یہ جزاء خودشیطان کی خواہش کے مطابق ہے۔اس نے اسی خواہش کے ذریعے سے بنی آدم کو گمراہ کر کے اپنا ہدف حاصل کیا ہے اور اسی ہدف تک رسائی اس کی آرزو تھی۔
زندہ رہنے اور انسانوں کو گمراہی کی طرف جانے کے وسائل کی طلب بھی خود اس کی خواہش تھی، جس کی طرف روایات میں اشارہ کیا گیا ہے۔(۲۴)
۶۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے شیطان کی خواہشات کے پورا ہوتے ہی اس نے اپنی دھمکیوں کو بیان کیا اور بنی آدم کو فریب دینے اور راہ مستقیم الٰہی پر بیٹھنے اور انسانوں کو گمراہ کرنے کی بات کی(۲۵) تو اللہ تعالیٰ نے بھی دھمکی دی کہ جہنم کو اس سے اور اس کے پیروکاروں سے بھر دے گا۔
لَمَنْ تَبِعَکَ مِنْھُمْ لَأَمْلَأَنَّ جَھَنَّمَ مِنْکُمْ أَجْمٰعِیْنَ(۲۶)
ان میں سے جو بھی تیری اتباع کرے گا تو میں تم سب سے جہنم کو ضرور بھر دوں گا ۔
شیطان سے کہا کہ جو قدرت تو رکھتا ہے اسے استعمال کر تاکہ اللہ تعالیٰ کے مخلص بندے دوسروں سے ممتاز ہوں۔
وَاسْتَفْزِزْ مَنِ اسْتَطَعْتَ مِنْہُمْ بِصَوْتِکَ وَأَجْلِبْ عَلَیْْہِم بِخَیْْلِکَ وَرَجِلِکَ وَشَارِکْہُمْ فِیْ الأَمْوَالِ وَالأَوْلادِ وَعِدْہُمْ(۲۷)
جاجس پربھی بس چلے اپنی آوازسے گمراہ کراوراپنے سواراور پیادوں سے حملہ کردے اوران کیاموال اوراولادمیں شریک ہو جا اور ان سے خوب وعدے کر کہ شیطان سوائے دھوکہ دینے کے اورکوئی سچاوعدہنہیں کرتا۔
آخرمیں دو نکات کی طرف توجہ ضروری ہے۔
اول:شیطان صرف ان افراد کو دھوکہ دینے کی قدرت رکھتا ہے جو اپنے اختیار سے شیطان کی ولایت کو قبول کریں اور اس کے زیر ِسرپرستی آجائیں۔
کُتِبَ عَلَیْْہِ أَنَّہُ مَن تَوَلَّاہُ فَأَنَّہُ یُضِلُّہُ وَیَہْدِیْہِ إِلَی عَذَابِ السَّعِیْرِ(۲۸)
جب کہ اس شیطان کے بارے میں یہ لکھا گیا ہے کہ جو اسے دوست بنائے گا اسے وہ گمراہ کرے گا اور جہنم کے عذاب کی طرف اس کی رہنمائی کرے گا۔
ان کے بارے میں یہ لکھ دیا گیا ہے کہ جو شیطان کو اپنا دوست بنائے گا،شیطان اسے گمراہ کردے گا اورپھرجہنم کے عذاب کی طرف راہنمائی کرے گا۔
اِنَّمَا سُلْطَانُہُ عَلَی الّٰذِیْنَ یَتَوَلَّوْنَہٗ وَالّٰذِیْنَ ھُمْ بِہٖ مُشْرِکُوّنَ(۲۹)
اس کا غلبہ صرف ان لوگوں پر ہوتا ہے جو اسے سرپرست بناتے ہیں اور اللہ کے بارے میں شرک کرتے ہیں اورشیطان خوداپنے قول کے مطابق اللہ کے مخلص بندوں پر کوئی تسلط نہیں رکھتا۔
اِلاَّ عِبَادَکَ مِنْھُمْ الْمُخلِصِیْنَ(۳۰)
تیرے ان بندوں کے علاوہ جنہیں تو نے خالص بنا لیا ہے
اللہ تعالیٰ نے بھی متعددآیات میں اس بات کی تائید کی ہے اور اپنے خاص بندوں کو وسوسۂ شیطانی سے دوررکھا ہے۔

اِنَّ عِبٰادِی لَیْسَ لَکَ عَلَیْھِمْ سُلْطَانٌ(۳۱)
میرے بندوں پرتیراکوئی اختیارنہیں ہے
کیونکہ ان بندگانِ خدا نے اپنے اختیار سے الٰہی راستہ کا انتخاب کیا اور اللہ تعالیٰ کے وعدوں پربھروسہ کرتے ہوئے خود کو شیطانی وسوسے، وعدوں اور دھوکہ دہیوں سے دور رکھا ہے۔
دوم:شیطان انسان پر کسی قسم کا تکوینی تسلط ِ نہیں رکھتا کیونکہ وہ انسان کے برابر یابعض حالت میں اس سے پست ترموجود ہے،اللہ تعالیٰ نے بھی اسے تسلط تکوینی کی قدرت عطا نہیں کی،آیات قرآنی کے مطابق اس کی قدرت صرف وسوسہ تک محدود ہے، جسے وہ جھوٹے وعدوں اورانسان کو فحشاء کی طرف کھینچنے کے وسوں جیسے راستوں اور برے کاموں کو مزین کرنے ذریعے انجام دیتا ہے۔
اَلشَّيْطٰنُ يَعِدُكُمُ الْفَقْرَ وَيَاْمُرُكُمْ بِالْفَحْشَاۗءِ(۳۲)
شیطان تمہیں تنگدستی کا خوف دلاتا ہے اور بے حیائی کی ترغیب دیتا ہے،
لأُزَیِّنَنَّ لَہُمْ فِیْ الأَرْضِِ(۳۳)
میں ان بندوں کے لیے ساز و سامان آراستہ کروں گا
قابل توجہ یہ ہے کہ انسان کے شیطانی وعدوں سے فریب کھانے کے بعد شیطان اس سے بیزاری اختیار کرتا اور اسے تنہا چھوڑ دیتا ہے۔
كَمَثَلِ الشَّيْطٰنِ اِذْ قَالَ لِلْاِنْسَانِ اكْفُرْ، فَلَمَّا كَفَرَ قَالَ اِنِّىْ بَرِيْۗءٌ مِّنْكَ اِنِّىْٓ اَخَافُ اللہَ رَبَّ الْعٰلَمِيْنَ(۳۴)
ان کی مثال شیطان جیسی ہے کہ اس نے انسان سے کہا کہ کفراختیارکر لے اور جب وہ کافرہوگیاتوکہنے لگا کہ میں تجھ سے بیزارہوں، میں توعالمین کے پروردگارسے ڈرتاہوں۔
اوراس سے بھی زیادہ قابلِ توجہ یہ ہے کہ روزِقیامت شیطان کے پیروکار اپنے دھوکہ کھانے کی وجہ سے شیطان کی ملامت کریں گے لیکن وہ واضح اعلان کرے گا کہ میرا کام صرف جھوٹے وعدے تھا جن کا تم نے یقین کیا اور الٰہی وعدوں پر یقین نہ کیا،اس بناء پر تمہیں ملامت کا کوئی حق نہیں، تمہیں چاہیے کہ اپنی ملامت کرو، یہاں پر نہ تو تمہاری فریاد رسی کر سکتا ہوں اور نہ ہی تم میری کوئی مدد کر سکتے ہو۔
وَقَالَ الشَّيْطٰنُ لَمَّا قُضِيَ الْاَمْرُ اِنَّ اللہَ وَعَدَكُمْ وَعْدَ الْحَقِّ وَوَعَدْتُّكُمْ فَاَخْلَفْتُكُمْ، وَمَا كَانَ لِيَ عَلَيْكُمْ مِّنْ سُلْطٰنٍ اِلَّآ اَنْ دَعَوْتُكُمْ فَاسْتَجَبْتُمْ لِيْ، فَلَا تَلُوْمُوْنِيْ وَلُوْمُوْٓا اَنْفُسَكُمْ، مَآ اَنَا بِمُصْرِخِكُمْ وَمَآ اَنْتُمْ بِمُصْرِخِيَّّ(۳۵)
اور (قیامت کے دن) جب فیصلہ ہو چکے گا تو شیطان کہ اٹھے گا: اللہ نے تمہارے ساتھ یقینا سچا وعدہ کیا تھا اور میں نے تم سے وعدہ کیا پھر وعدہ خلافی کی اور میرا تم پرکوئی زور نہیں چلتا تھا مگر یہ کہ میں نے تمہیں صرف دعوت دی اور تم نے میرا کہنا مان لیا پس اب تم مجھے ملامت نہ کرو بلکہ خود کو ملامت کرو (آج) نہ تو میں تمہاری فریاد رسی کرسکتا ہوں اور نہ تم میری فریاد رسی کر سکتے ہو
اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے شیطان کے مکروفریب کو مضبوط الٰہی رسی کے مقابلہ میں کمزور شمار کیا ہے۔
إِنَّ کَیْْدَ الشَّیْْطَانِ کَانَ ضَعِیْفا(۳۶)
بے شک شیطان کا مکروفریب کمزور ہے
لیکن انسان بھی ضعیف موجودہے۔
وَخُلِقَ الْاِنْسَانُ ضَعِْیفًا(۳۷)
انسان کمزور پیدا کیا گیا ہے
قدرتِ الٰہی پر بھروسہ کے بغیرراہِ سعادت کے انتخاب اور اس پر حرکت کرنے میں آگے نہیں بڑھ سکتا۔
آخری نکتہ یہ ہے کہ شیطان کی وسوسہ گری انسان کی صدائے فطرت و الہامات رحمانی سے روگردانی کے بعدہے اوروہ لوگ جو اپنے اختیاروانتخاب سے کفرکرتے ہیں،
روئے زمین کے پاکیزہ و مقدس انسانوں کی ہمراہی و محبت کو کھو دیتے ہیں اور شیطانی وسوسوں میں مبتلاہونے کے مستحق ہیں،یہ ان کے بارے میں اسی دنیا میں سزا کی ایک قسم ہے۔
أَلَمْ تَرَ أَنَّا أَرْسَلْنَا الشَّیَاطِیْنَ عَلَی الْکَافِرِیْنَ تَؤُزُّہُمْ أَزّا(۳۸)
کیا تم نے نہیں دیکھا کہ ہم نے شیاطین کو کافروں پر مسلط کر دیا ہے اور وہ ان کو بہکاتے رہتے ہیں۔

(حوالہ جات)

(۱)سورہ مریم، آیت۸۳
(۲) سورہ نحل، آیت۱۰۰
(۳) سورہ حجر، آیت۴۲
(۴) سورہ ذاریات، آیت۵۶، ۵۱
(۵) سورہ انبیاء، آیات ۲۱، ۲۷
(۶) سورہ انسان، آیت۲
(۷) سورہ انسان، آیت۳
(۸) سورہ مومنون، آیت۱۴
(۹) سورہ روم، آیت۳۰
(۱۰) سورہ یونس، آیت۳۵
(۱۱) سورہ شمس، آیت۲۸
(۱۲) سورہ حجرات، آیت۷
(۱۳) سورہ مومن، آیت۵۶
(۱۴) سورہ ابراہیم، آیت۱۲
(۱۵) سورہ سبا،آیت ۲۱
(۱۶) سورہ ص، آیت۷۲
(۱۷) سورہ انشقاق، آیت۶
(۱۸) سورہ یوسف، آیت۵۶
(۱۹) سورہ سجدۃ، آیت۳۱
(۲۰) سورہ اسراء
(۲۱) سورہ زاریات، آیت۵۱، ۵۶
(۲۲) نہج البلاغہ، خطبہ۱۹۲
(۲۳) سورہ سجدۃ، آیت۵
(۲۴) المیزان، ج۸، ص۶۱، نقل از تفسیر قمی از امام صادق
(۲۵) سورہ اعراف، آیت۱۶، ۱۷
(۲۶) سورہ اعراف، آیت۱۸
(۲۷) سورہ اسراء، آیت۶۴
(۲۸) سورہ حج، آیت۴
(۲۹) سورہ نحل، آیت۱۰۰
(۳۰) سورہ ص، آیت۸۴، سورہ حجر، آیت۳۹
(۳۱) سورہ حجر، آیت۳،۴
(۳۲) سورہ بقرۃ، آیت۲۶۸
(۳۳)سورہ حجر، آیت۳۹
(۳۴) سورہ حشر آیت ۱۶
(۳۵) سورہ ابراہیم، آیت۲۲
(۳۶) سورہ نساء، آیت۷۶
(۳۷) سورہ نساء، آیت۲۸
(۳۸) سورہ مریم، آیت۸۳