ur

خلقت ِ ملائکہ

سوال8۲:ملائکہ کس لیے پیدا کیے گئے ہیں، نعوذ بااللہ کیا اللہ تعالیٰ امداد کا محتاج ہے؟
سلسلۂ مراتب کا وجود خلقت کے نظام اورطورطریقے کا لازمہ ہے، فیض کے وسائل کا وجودخودوسائل کو (بھی) صاحب کمال و فیض بناتاہے اورپست ترموجودات کو بھی رشدو کمال کی راہ پرلگاتاہے، نظام خلقت کی تشکیل اس طرح ہے کہ پانی ریشوں کے ذریعے درخت کیجڑمیں جذب ہوتاہے اورپتوں تک پہنچتا ہے،اس راہ میں بارش کا نزول،پانیوں کی ہدایت اورباغبان کا فعل وغیرہ سب مقصد و مفہوم پیدا کرتے ہیں اور کائنات کی فعالیت و نشاط کو حاصل کرلیتے ہیں،دوسری صورت میں موجودات میں سستی وجدائی حاکم ہو جائے گی۔
خدائے حکیم نے نظام کائنات کو محکم و خوبصورت بنیاد پر استوار کیا ہے،ایسے نظام کا لازمہ سلسلۂ مراتب ہے،یہ سلسلہ عالم لاہوت سے عالمِ جبروت اور پھرعالم ملکوت اورپست ترین مرتبہ عالم ملک یاناسوت(عالم مادہ)تک پہنچتا ہے،اللہ کے عظیم فرشتے ہر ایک خاص ذمہ داری رکھتے ہیں،جیسا کہ حضرت جبرائیل ؑ اور ان کے ماتحت فرشتے وحی و الہامات رحمانی کو پہنچانے کی ذمہ داری رکھتے ہیں۔(۱)
حضرت میکائیل ؑ اور ان کے ماتحت فرشتے روزی رسانی اور بادوباراں کی تدبیر کی ذمہ داری رکھتے ہیں۔(۲)
حضرت عزرائیل اور ان کے ماتحت فرشتے روح قبض کرنے اور موجودات کی موت کے ذمہ دار ہیں۔(۳)
حضرت اسرافیل اور ان کے ماتحت فرشتے کائنات کی تبدیلی کے ذمہ دار ہیں۔(۴)
یہ سب کچھ کائنات کے منظم ہونے کی علامت ہے کیونکہ سب اذن وارادہ الٰہی سے فعالیت کرتے ہیں۔

(حوالہ جات)
(۱) سورہ بقرۃ، آیت۹۷
(۲) سورہ نازعات، آیت۵
(۳) سورہ سجدہ، آیت ۲
(۴) سورہ زمر، آیت۶۸