ur

انسان جیسی دیگر مخلوقات

سوال۲۴:کیا انسان کی تخلیق کے بعد اللہ تعالیٰ کسی اور موجود کو پیدا فرمائے گا؟
اس بارے میں کوئی قاطع اور واضح دلیل موجود نہیں لیکن دینی نصوص اورعرفانی و فلسفی نکتہ نظرکے مطابق اللہ تعالیٰ ہمیشہ فیض پہنچانے والا ہے اور معصومینؑ سے منقول روایات بھی بتاتی ہیں کہ اس کائنات کے بعد ایک اور عالم اور ایک نئی نسل خلق کی جائے گی اور وہ اللہ کی ہدایت اورفیض سے استفادہ کرتے ہوئے اپنے کمال تک رسائی حاصل کریں گے،البتہ اس بات کا امکان ہے کہ ان انسانوں کی خصوصیات ہمارے نظام انسانی سے مختلف ہوں۔
فلسفی و عرفانی نقطۂ نظر سے اس تصور کی تحلیل کی جا سکتی ہے،خداوندکریم اپنی لامحدود صفات کے پیش نظراپنی لامحدودہستی اورلامحدودرحمت وحکمت کے ذریعے ہر ممکن الوجود کو اپنے فیض سے بہرہ مند کرتا ہے اور محال ہے کہ جو چیز وجود کا امکان رکھتی ہو اسے وہ اپنے فیض سے محروم کرے،اس کا فیض جاوداں ہے جس کا منقطع ہونا محال ہے، لیکن کون سی چیز فیض ورحمت ِالٰہی کو دریافت کرنے کی قابلیت اور امکان رکھتی ہے اور کون سی چیزیہ صلاحیت نہیں رکھتی، یہ ایک جدا موضوع ہے۔
جوکچھ ہم جانتے ہیں وہ یہ ہے کہ موجودہ نظام بھی مسلسل اورپے درپے حالات خلقت میں ہے کیونکہ عالم ہستی معلول ہے اور حکمت متعالیہ میں یہ بات ثابت کی جا چکی ہے کہ کسی چیز کا معلول سوائے فعل، کام اور فاعل کی ایجاد کے کچھ نہیں اور جب بھی فاعل تخلیق اور ایجاد سے ہاتھ کھینچ لے، نہ فعل ہوگا اور نہ ہی کائنات،بنابرایں کائنات ہمیشہ حالت خلقت میں ہے اور اللہ تعالیٰ مسلسل خلق و ایجاد میں مشغول ہے کُلّ یَوّمٍ ھُوَ فٖی شَاَنٌ۔(۱)

(حوالہ)
(۱) الف: اصول فلسفہ و روش رئالپسم، ج۳، مقالہ نیم شبیہ مطہری، ملہ ھہ طباطبائی، ب: آموزش فلسفہ، ج۲، آیت اللہ مصباح یزدی، ج: براین اثبات وجود خدا در نقدی بہ شبہات جان ہا سپرز، حمید رضا شاکرین، ص ۱۶۴، ۱۶۲