ur

بطلان تناسخ

سوال نمبر۲۲:کیا ہماری روح اس سے پہلے دیگر ابدان میں تھی اور اب ہمارے موجودہ بدن میں منتقل ہوئی ہے؟ عقل اور دین کے مطابق تناسخ کا مقام کیا ہے؟
تناسخ کی دو قسمیں ہیں:
۱۔ تناسخ ملکی:
اس سے مراد یہ ہے کہ روح انسانی اپنے مادی بدن کو چھوڑتے ہی دوسرے مادی بدن میں داخل ہو جاتی ہے۔
۲۔ تناسخ ملکوتی:
اس سے مراد یہ ہے کہ نفس اپنے عقائد، افکار، گفتاراور کردار کے مطابق عالمِ برزخ کے تناسب مثالی بدن اور عالم قیامت کے متناسب قیامتی بدن بناتا ہے جو اس صورت میں مجسم ہوتا ہے،باالفاظ دیگر انسان اپنے دنیوی عقائد و اعمال کے ذریعے سے اپنے لیے برزخ میں ایک جسم اور قیامت میں ایک جسم بناتا ہے اور اس کا نفس ان سے تعلق جوڑتاہے۔
تناسخ ملکی کی بھی متعدد صورتیں ذکر کی گئی ہیں، مثلاً ’’رسخ‘‘ جو روح کی جمادات کی طرف بازگشت سے عبارت ہے، ’’فسخ‘‘ جو روح کی نباتات کی طرف بازگشت کے معنی میں ہے،’’مسخ‘‘جو روح کی حیوانات کی طرف بازگشت کا مفہوم رکھتا ہے، ’’نسخ‘‘جو روح کی بدن انسان کی طرف بازگشت سے عبارت ہے، اسی طرح تناسخ کو تناسخ نزولی اور صعودی میں تقسیم کیاگیاہے،تناسخ نزولی، روح کا پست تر بدن کی طرف پلٹنا ہے جیسے روح انسانی کا کسی حیوان کے جسم میں داخل ہو جانا اور تناسخ صعودی اس کے برعکس ہے۔
فلسفی نکتہ نظر سے تناسخ ملکوتی کو عقل تسلیم کرتی ہے لیکن تناسخِ ملکی قطعاً باطل ہے اور تناسخ ملکی کی ہر ایک قسم کے بطلان کے لیے متعدد دلائل پیش کیے گئے ہیں، جن میں ہم صرف ایک عمومی فلسفی دلیل کی طرف اشارہ کرتے ہیں،یہ دلیل چند بنیادوں پر قائم ہے۔
اول:حکمت ِمتعالیہ کی بناء پر نفس کا بدن کے ساتھ تعلق ذاتی تعلق ہے،نفس انسانی بعینہ بدن سے متعلق حقیقت ہے اور اس کی ذات میں بدن سے تعلق پوشیدہ ہے،اس وجہ سے انسانی روح کسی بھی عالم میں بدن کے بغیر نہیں ہو گی اور ہر عالم میں اس عالم سے متناسب بدن کے ہمراہ ہو گی۔
دوم: نفس و بدن کی ترکیب ترکیب اتحادی ہے نہ کہ انضمامی،یعنی روح اور بدن ایک ہی وجود سے موجود ہیں اور اس ترکیب کے نتیجہ میں انسان نامی حقیقت تشکیل پاتی ہے، اس تصور کا لازمہ یہ ہے کہ روح انسانی بدن کے بغیر اپنے وجود کو برقرار نہیں رکھ سکتی اور بدن بھی روح کے بغیر اپنی موجودیت کی حفاظت نہیں کر سکتا۔
سوم:ترکیبِ اتحادی میں ایسے دو موجودات کو جو کہ ایک ہی وجود کے ذریعے موجود ہوتے ہیں یکساں مرتبہ کا حامل ہونا چاہیے،یعنی اگر ایک موجود قوت اور استعداد محض کے مرحلہ میں ہو اور دوسرا موجودفعلیت کے مقام پر فائز ہو تو ان دونوں کو ہر گز متحد نہیں کیا جا سکتا کیونکہ یہ دونوں ترکیب کے نتیجہ میں ایک ہو جائیں گے اور یہ ایسی وحدت ہے کہ دونوں ایک ہی وجودمیں متحد اورموجودہوں گے، اب ایک موجودجو قوت اور استعدادکے مرحلہ اور مرتبہ میں ہے اور جس کا وجودفعلیت سے ضعیف تراورپست ترہے ایسے وجودکومرتبہ فعلیت سے ہرگز متحد اور ایک نہیں کیا جا سکتاکیونکہ وجود قوی اور بالاتر ہے، نہ ہی وہ ایک دوسرے کے عین برابر اور ہم مرتبہ ہو سکتے ہیں،اس لیے کہ نچلااور پست مرتبہ اپنی پستی کے باوجودمرتبہ عالی نہیں ہو سکتا،جس طرح مرتبہ عالی اپنی بلندی کے باوجود ترکیب کے ذریعے پست تر مرتبہ کی طرف تنزل نہیں پاتا،اس وجہ سے ایک بالقوۃ اور بالا استعداد مرتبہ کے حامل وجود اور بالفعل موجود کے مابین اتحادی ترکیب محال ہے۔
چہارم: تمام مادی عالم حرکت کی حالت میں ہے۔ یعنی موجود اپنے خاص راستے میں متعین قوانین کے مطابق مسلسل حرکت میں ہے اور یہ حرکت کمال کی طرف اور خود اس موجودکے متناسب ہوتی ہے،مثال کے طورپرزمین میں گندم کے دانہ کو مناسب ضروریات اور ماحول فراہم ہوجائے تو وہ شگافتہ ہو کر تدریجاًبالتدریج اگتا ہے۔ اس گندم کے دانے کی منزل بے شک اس کا آخری مرحلہ ہے یعنی گندم کا بوٹہ جو اپنی اپنی نشوونما مکمل کر کے خوشۂ گندم بنتا ہے اور اس خوشے میں بہت زیادہ دانے ہوتے ہیں،کسی پھل کے مٹی میں چھپے ہوئے بیج میں سے جب ایک چھوٹی سی سبزشاخ اس کی پوست اور جلد چیرکرباہرنکلتی ہے تو ابتداء ہی سے اس کے سامنے کمال کی وہ منزل ہوتی ہے،وہاں پہنچ کر وہ ایک بھرپور پھلدار درخت بنتا ہے،بہرحال خلقت کا یہ نظام کبھی بھی اپنے مقصد اور راستے سے دست بردار نہیں ہو گا اور مسلسل اپنا کام کرتا رہے گااور موجودات ان کے خصوصی مقاصد کی طرف ہمیشہ رہنمائی کرتارہے گا،روح اور بدن بھی اس حقیقت اور نظامِ کائنات سے مستثنیٰ نہیں،یہ دونوں بھی باقی موجودات کی طرح مسلسل اپنے کمال کی طرف حرکت میں ہیں۔
پنجم: کسی بھی حرکت میں اگرکوئی ’’موجود‘‘قوت اور ستعدادکے مرحلہ سے فعلیت کے مرحلہ تک پہنچ جائے توپھراس فعلیت یافتہ موجودکادوبارہ مرحلہ قوت کی طرف لوٹنا محال ہے، کیونکہ حرکت ہمیشہ نقص سے کمال، فقدان سے وجدان، احتیاج اور ناداری سے بے نیازی اوردارائی کی طرف ہوتی ہے، اس وجہ سے ممکن نہیں کہ فعلیت تک پہنچا ہوا موجود دوبارہ مرحلہ قوت کی طرف واپس پلٹے،مثال کے طور پر ایک حیوان کامل ہونے کے بعد دوبارہ حالت نطفہ کی طرف نہیں پلٹ سکتا، کیونکہ یہ قانون حرکت کے خلاف ہے،مذکورہ پانچ اصولوں کے پیش نظر اگر روح اپنے مادی بدن سے جدائی کے بغیر کسی اور مادی بدن میں حلول کرے تو محال لازم آتا ہے کیونکہ نفس اور روح مادی بدن سے جدائی کے بعد دوسرے مادی بدن کے ساتھ اس کے جنین کے مرحلے سے یا اس جیسے کسی مرحلے سے تعلق جوڑے تو درج ذیل مشکلات پیش آتی ہیں۔
۱۔ یہ روح اپنے پہلے مادی بدن کے ساتھ اپنے تکامل کے راستے کو مادی عالم کی حد تک طے کر چکی ہے اور نقصان و فقدان کے کچھ مراتب کو گزار کر فعلیتوں تک پہنچ چکی ہے،اب یہ روح ایسے مادی بدن سے متحد ہو رہی ہے جو حرکت کے ابتدائی مراحل میں ہے اور تکامل یافتہ روح کی نسبت قوت اور استعداد کے ابتدائی مرحلے اور حدود میں ہے، ایسا ہونا محال ہے کیونکہ روح اور بدن کے مابین کی ترکیب اتحادی قائم ہے اور دونوں ایک ہی وجود کے تحت موجودہیں،ایسے میں دوموجودات جن میں ایک بالقوہ اور دوسرا بالفعل ہے،ایک ناقص اور دوسرا کامل ہے، ان کے درمیان ترکیب اتحادی قائم نہیں کیونکہ اس کے نتیجے میں تکامل یافتہ روح غیر کامل بدن کے ساتھ متحد ہو گی جو ممکن نہیں اور اگر کہا جائے کہ ’’روح‘‘ اپنے پہلے بدن سے جدائی کے بعد تنزل کرتی ہے تاکہ دوسرے بدن سے متحد ہو سکے تو جواب یہ ہو گا کہ قانون پنجم کے مطابق فعلیت یافتہ موجود کا دوبارہ موجود بالقوہ میں پلٹنا محال اور قانونِ حرکت کے خلاف ہے۔
روح مادی بدن سے جدائی یعنی موت کے بعد مثالی بدن سے متحد ہوتی ہے اور عالم برزخ میںبھی اپنی حرکت برقراررکھتی ہے،بدن مادی بھی موت کے بعد اس دنیا میں ایک خاص راہ پر گامزن ہوتا ہے اور اپنی حرکت کو برقرار رکھتا ہے تاکہ ضروری تبدیلیوں کے مرحلے سے گزر کر دوبارہ عالم آخرت و قیامت میں روح کے ساتھ متحد ہونے کی صلاحیت پیدا کر سکے۔(۱)
آیات و روایات بھی تسلسل روح یاتناسخ ملکی کوباطل قراردیتی ہیں،ان کا مضمون موت کے بعد عوالم میں روح کی مسلسل حرکت کو بیان کرتا ہے نہ کہ اس کے عالم مادی کی طرف پلٹنے کو،اخروی بدن کے ساتھ روح کے تعلق یا مختلف حالات میں دیگر عوالم میں روح کے ظہور کی تائید قرآن کریم کی آیات اور اہل بیت ؑ کی روایات سے ہوتی ہے،اس موضوع پر ’’معاد شناسی‘‘ کی بحثوں میں تحقیق کی جانی چاہیے۔(۲)
کچھ لوگوں نے مسخ کی صحت پر قرآن کی آیات سے استدلال کیا ہے،بطور مثال سورہ مائدہ آیت ۶۰ اور سورہ اعراف آیت ۶۶ کی روشنی میں انسانوں کا ایک گروہ غضب الٰہی سے بندراورسورمیں تبدیل ہوا،ہم مختصراً عرض کریں گے کہ مسخ یعنی گنہگار انسانوں کا حیوان کی صورت میں تبدیل ہونابالکل اورچیزہے اور تناسخ ِباطل مکمل طورپرمختلف چیزہے،دونوںمیں کسی طرح کی مشابہت موجود نہیں۔
تناسخ کی بنیاد دو چیزوں پر ہے۔
۱۔تعدد بدن
تناسخ میں دو بدن وجود رکھتے ہیں،ایک سابق بدن جس سے روح جدا ہوتی ہےاورایک نیا بدن جس میں روح حلول کرتی ہے جبکہ مسخ میں اسی انسان کا بدن حیوان کے بدن میں تبدیل ہوتا ہے۔
۲۔ تناسخ میں نفس کا حدّکمال یعنی حاصل شدہ فعلیتوں سے حدّنقصان یعنی استعداد اور بالقوۃکی طرف پلٹنا اور جنینی زندگی کا دوبارہ آغاز اور مراحل رشدکا دوبارہ طے کرنالازم ہے،جبکہ ’’مسخ‘‘ میں انسانی بدن حیوان کے نطفہ میں تبدیل نہیں ہوتا۔

(حوالہ جات)
(۱) الاسفار الاریعۃ، ج ۹، ۴،۱، محمد صدرالدین شیرازی
(۲) دیکھئے بحارالانوار، ج ۱۰، باب احتجاجات، امام صادق ؑ، ص ۱۷۶