روزہ کا فلسفہ اہلبیت (ع) کی نگاہ میں

روزہ مادی اور معنوی، جسمانی اور روحانی لحاظ سے بہت سارے فوائد کا حامل ہے۔ روزہ معدہ کو مختلف بیماریوں سے سالم اورمحفوظ رکھنے میں فوق العادہ تاثیر رکھتا ہے۔ روزہ جسم اور روح دونوں کو پاکیزہ کرتا ہے۔

پیغمبر اکرم (ص) اور روزہ پیغمبر اکرم (ص) نے فرمایا:

المعدۃ بیت کل داء۔ والحمئۃ راس کل دواء(۱)۔

معدہ ہر مرض کا مرکز ہے اور پرہیزاور (ہر نامناسب غذا کھانے سے ) اجتناب ہر شفا کی اساس اور اصل ہے۔مزید پڑھیں

خطبہ شعبانیہ – استقبال ماہ رمضان

شیخ صدوق(علیہ الرحمہ) نے معتبر سند کیساتھ امام علی رضا (ع)سے اور حضرت نے اپنے آباء طاہرین (ع) کے واسطے سے امیرالمومنین (ع)سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا: ایک روز رسول اللہ ﷺنے ہمیں خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ اے لوگو! تمہاری طرف رحمتوں اور برکتوں والا مہینہ آرہا ہے۔ جس میں گناہ معاف ہوتے ہیں۔ یہ مہینہ خدا کے ہاں سارے مہینوں سے افضل و بہتر ہے۔ جس کے دن دوسرے مہینوں کے دنوں سے بہتر، جس کی راتیں دوسرے مہینوں کی راتوں سے بہتر اور جس کی گھڑیاں دوسرے مہینوں کی گھڑیوں سے بہتر ہیں۔مزید پڑھیں

ماہ رمضان خود شناسی کا مہینہ

ماہ رمضان خود شناسی کا مہینہ ہے البتہ خود شناسی اور معرفت نفس ایک ایسا عمل ہے جو دائمی اور ہمیشگی ہے ماہ رمضان سے مخصوص نہیں ہے۔ کبھی بھی انسان کو خود شناسی سے غافل نہیں ہونا چاہیے۔ معرفت نفس ایک مدرسہ ہے جس کا دروازہ ہمیشہ کھلا رہتا ہے۔

خود شناسی کا پہلا مرحلہ یہ ہے کہ ہم اپنے آپ پر یقین پیدا کریں کہ ہم انسان ہیں حیوان نہیں ہیں نبات نہیں ہیں جماد نہیں ہیں۔ لیکن ان تمام عوالم کے خواص ہمارے اندر موجود ہیں۔ اور انسان گزشتہ عوالم کی خوبیوں کا مجموعہ ہے۔مزید پڑھیں

قرآن اور ماہ رمضان

آیات و روایات سے یہ بات بخوبی واضح ہے کہ روزہ ایک اہم عبادت ہے اور جس کا ثواب بھی بہت زیادہ ہے اور یہ تقوی کے مرحلہ تک پہنچنے کے لیے ایک ذریعہ ہے۔

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ سورہ بقرہ،آیۃ83ترجمہ: اے ایمان والو! تم پر روزے کا حکم لکھ دیا گیا ہے جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر لکھ دیا گیا تھا تاکہ تم تقویٰ اختیار کرو۔
مزید پڑھیں

ماہ مبارک رمضان کی خصوصیات

امام علی علیہ السلام نے ماہ رمضان کے پہلے دن خطبے میں فرمایا: اے روزہ دارو! اپنے امور میں تدبر کرو، کہ تم اس مہینہ میں اللہ کے مہمان ہو دیکھو کہ تمہاری راتیں اور دن کیسے ہیں؟ اور کیسے تم اپنے اعضاء و جوارح کو اپنے پروردگار کی معصیت سے محفوظ رکھتے ہو؟ دیکھو ایسا نہ ہو کہ تم رات کو سو جاو اور دن میں اس کی یاد سے غافل رہو۔ پس یہ مہینہ گزر جائے گا اور گناہوں کا بوجھ تمہاری گردنوں پر باقی رہ جائے گا۔ اور جب روزے دار اپنی جزا حاصل کریں گے تو تم سزا پانے والوں میں سے ہو گے۔ اور جب انہیں انکا مولا انعام سے نوازے گا تو تم محروم ہو جاو گے اور جب انہیں خدا کی ہمسائگی نصیب ہو گی تو تمہیں دور بھگا دیا جائےگا۔
مزید پڑھیں

روزہ اور تربیت انسانی میں اس کا کردار

اے ایمان والو! تم پر روزے فرض کردئے گئےجیسے تم سے پہلی امتوں پر فرض تھے تاکہ تم پرہیزگا ر بن جاؤ۔ (سورہ بقرہ ١٨٣)

روزہ، دعا اور قرآن یہ تینوں آیات آپس میں ایسے منسلک ہیں کہ ایک دوسرے سے جدا نہیں ہو سکتیں لہذا یہ ماہ منور ایسا بابرکت مہینہ ہے جس میں لوگوں کا رجحان صرف اور صرف عبادات الٰہی کی طرف رہتا ہے۔ جس آیہ شریفہ کو ہم نے بیان کیا ہے وہ روزہ پر ایک محکم دلیل ہے اور مبارک مہینہ بھی روزہ اور روزہ داروں سے مخصوص ہے اس لئے ہر انسان کو ان دنوں اس پر ایک خاص توجہ دینی چاہیئے کیونکہ یہ مہینہ لوگوں کے تزکیہ نفس کا ہے ۔
مزید پڑھیں

روزہ کی اہمیت کے متعلق نبی اکرم (ص) کی چند احادیث

ہر چیز کے لئے زکوٰة ہے اور بدن کی زکوٰة روزہ ہے
روزہ جہنم کی آگ کے مقابلے میں ڈھال کی حیثیت رکھتا ہے
گرمی میں روزہ رکھنا جہاد ہے
رسول خدا نے فرمایا کہ اللہ تعالی نے فرمایا ہے: روزہ میرے لئے ہے (اور میرا ہے) اور اس کی جزا میں ہی دوں گا

مزید پڑھیں

روزہ کیا ہے اور یہ کس کے لئے ہے؟

اے لوگو!آگاہ ہو جاؤ کہ ماہ خدا (ماہ مبارک رمضان ) تم سے قریب ہے جو اپنے ہمراہ برکت و رحمت و مغفرت لیے آرہا ہے ۔ یہ وہ مہینہ ہے جو خدا کے نزدیک تمام مہینوں سے اعلیٰ و افضل ہے اس کے دن تمام دنوں سے افضل ہیں، اس کی راتیں تمام مہینوں کی راتوں سے برتر ہیں اور اس کے لمحات و ساعات تمام مہینوں کے لمحات و ساعات سے بہتر ہیں۔یہ وہ مہینہ ہے جس میں تم اللہ کی مہما ن نوازی میں مدعو کیے گئے ہو۔مزید پڑھیں

ماہ رمضان کی شان و شوکت

ماہ رمضان المبارک کی عظیم الشان مہمانی کے روح پرور لمحات ایک بار پھر آ پہنچے اور دنیا کے گوشہ ؤ کنار میں جہاں جہاں بھی مسلمان موجود ہیں چاہے وہ کسی بھی قوم و ملت اور مذہب و مسلک سے تعلق رکھتے ہوں ہرجگہ اور ہر طرف سعادت و برکت کے دسترخوان بچھ گئے ہیں روزوں کے ساتھ قیام و قعود ، رکوع و سجود ،دعا ؤ مناجات اورتلاوت قرآن کے دسترخوان ،یہ ایام روزمرہ کی زندگي کے شوروغل سے نکل کر سرور و شادمانی سے معمور دلنشین و دلنواز حسین حقیقتوں سے متصل ہو جانے کی دعوت دے رہے ہیں۔ ماہ مبارک کی آمد کا یہی وہ مبارک و مسعود دن تھا جب تقریبا چودہ سو سال قبل مسجد النبی (ص) کے بلند و بالا منبر سے مرسل اعظم حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اپنی امت کو یہ خوش خبری سنائی تھی ۔مزید پڑھیں